باب ہشتم
انکار کیا بلکہ سیدہ مریم علیہا السلام پر الزام تراشی بھی کی ہے۔قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بن باپ پیدا ہونے پرذات عزیز و حکیم کے ارشادات ملاحظہ فرمائیں:
سورہ مریم میں ارشاد خداوندی ہے :
قَالَ اِنَّمَآ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّکِ صلے ق لِاَھَبَ لَکِ غُلٰمًا زَکِیًّا۔۱۹
قَالَتْ اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ غُلٰم’‘ وَّلَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَر’‘ وَّلَمْ اَکُ بَغِیًّا ۔۲۰
قَالَ کَذٰلِکِ ج قَالَ رَبُّکِ ھُوَ عَلَیَّ ھَیِّن’‘ج وَلِنَجْعَلَہٗٓ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَۃً مِّنَّاج وَکَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا۔۲۱ (مریم:21,20,19)
فرشتے نے کہا:’’ میں تو تمہارے رب کا بھیجا ہوا (فرشتہ) ہوں،(اور اس لئے آیا ہوں) تاکہ تمہیں ایک پاکیزہ لڑکا دوں‘‘۔
مریم نے کہا: ’’میرے لڑکا کیسے ہو جائے گا، جب کہ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں ہے،اور نہ میں کوئی بدکار عورت ہوں؟‘‘
فرشتے نے کہا: ایسے ہی ہو جائے گا۔ تمہارے رب نے فرمایا ہے کہ :یہ میرے لئے معمولی بات ہے، اور ہم یہ کام اس لئے کریں گے تاکہ اس لڑکے کو لوگوں کیلئے (اپنی قدرت کی )ایک نشانی بنائیں،اور اپنی طرف سے رحمت کا مظاہرہ کریں۔اور یہ بات پوری طرح طے ہو چکی ہے‘‘۔ (آسان ترجمہ قرآن)
سورت اٰل عمران میںفرمایا ہے کہ:
قَالَتْ رَبِّ اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ وَلَد’‘ وَّلَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَر’‘ ط قَالَ کَذٰلِکِ اللّٰہُ یَخْلُقُ مَایَشَائُ ط اِذَا قَضٰٓی اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ۔ (اٰل عمران:47)
ترجمہ: مریم نے کہا :’’پروردگار!مجھ سے لڑکا کیسے پیدا ہو جائے گا جبکہ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں‘‘؟اللہ نے فرمایا: ’’اللہ اسی طرح جس کو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔جب وہ کوئی کام کرنے کا فیصلہ کرلیتا ہے تو صرف اتنا کہتا ہے کہ ہو جا پس وہ ہوجاتاہے‘‘۔
(آسان ترجمہ قرآن)