باب ہشتم
سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔‘‘
-2 ’’مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق اور بے قدر تھے جو مسیح کی ولادت سے بھی پہلے مظہر عجائبات تھا جس میں ہر قسم کے بیمار اور تمام مجذوم ‘مفلوج‘مبروص وغیرہ ایک ہی غوطہ مارکر اچھے ہوجاتے تھے۔‘‘
-3 ’’غرض یہ اعتقاد بالکل غلط اورفاسد اور مشرکانہ خیال ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنا دیتاتھا نہیں بلکہ صرف عَمْلُ التَّرَبْتھا جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہوگیاتھا‘‘۔
-4 ’’اور چونکہ قرآن شریف اکثر استعارات سے بھرا ہوا ہے اس لیے ان آیات کے روحانی طور پر معنی بھی کرسکتے ہیں کہ مٹی کی چڑیوں سے مراد وہ اُمّی اور نادان لوگ ہیں جن کو حضرت عیسیٰ نے اپنا رفیق بنایا گویا اپنی صحبت میںلے کر پرندوں کی صورت کا خاکہ کھینچا پھر ہدایت کی روح ان میںپھونک دی جس سے وہ پرواز کرنے لگے‘‘۔
-5 ’’سو کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ خداتعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اطلاع دے دی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسے پرندہ پرواز کرتا ہے یا اگر پرواز نہیں تو پیروں سے چلتا ہو کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کاکام بھی کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کاکام درحقیقت ایک ایسا کام ہے جس میں کَلّوں کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہو جاتی ہے‘‘۔
-6 ’’یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لیے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا جس میں رُوح