باب ہفتم
ایک اور خادمہ اتفاقاً آ نکلی۔ اُس نے اُس نیم دیوانی کو ملامت کی کہ حضرت صاحب کے کمرے میں اور موجودگی کے وقت تونے یہ کیا حرکت کی تو اس نے ہنس کر جواب دیا ’’اُنہوں کجھ دیداہے؟ یعنی اُسے کیا دکھائی دیتا ہے۔
مسمّاۃ بھانو کی خدمت گزاری
-8 ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیاکہ حضرت ام المؤمنین نے ایک دن سنایا کہ حضرت صاحب کے ہاں ایک بوڑھی ملازمہ مسمّاۃ بھانو تھی وہ ایک رات جبکہ خوب سردی پڑرہی تھی حضور کو دبانے بیٹھی چونکہ وہ لحاف کے اوپر سے دباتی تھی اس لیے اسے یہ پتہ نہ لگا کہ جس چیز کو میں دبا رہی ہوں وہ حضور کی ٹانگیں نہیں بلکہ پلنگ کی پٹی ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا بھانو آج بڑی سردی ہے۔ بھانو کہنے لگی ’’جی ہاں تدے تے تہاڈی لتاں لکڑی وانگڑ ہویاں ایں‘‘ یعنی،جی ہاں! جبھی تو آپ کی لاتیں لکڑی کی طرح سخت ہورہی ہیں۔
کنواری دوشیزہ کی خدمت گزاری
-9 عائشہ نام کی ایک کنواری دوشیزہ تھی جو پندرہ سال کی عمر میں مرزا صاحب کی خدمت میں بھیجی گئی۔ تقریباً دوسال مرزا صاحب کی خدمت میں رہی اور ان کے پاؤں دبایا کرتی تھی۔ بعد میں مرزا صاحب نے اس کی شادی کردی لیکن یہ شرط لگادی کہ اسے قادیان سے باہر نہ لے جایا جائے۔ جب و ہ مر گئی تو اُس کی یاد میں اُس کے خاوند صوفی غلام محمد نے ایک مضمون لکھا جس کا ایک اقتباس یہ ہے۔
’’حضور کو مرحومہ کی خدمت، حضور کے پاؤں دبانے کی بہت پسند تھی۔ حضور نے ایک دفعہ مرحومہ کو دعا دے کر فرمایا کہ اﷲ تجھے اولاد دے۔ حضور کی دعاسے مرحومہ کے چھ بچے ہوئے۔ ایک لڑکی اور پانچ لڑکے‘‘۔