باب ہفتم
الہاماتِ مرزا
مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ اس پر وحی اور الہامات کا نزول ہوا ہے اور وہ بھی کئی زبانوں میں۔جن میں عربی،عبرانی، فارسی، اردو،پنجابی، انگریزی اوردیگر نامعلوم زبانیںبھی شامل ہیں۔قرآن کریم میں وحی کے سلسلے میں ذات قدیر و کریم کا واٖضح فرمان موجود ہے کہ: ’’ وَمَآ اَرْسَلْنَا مِن رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہٖ لِیُبَیِّنَ لَھُمْ ‘‘ ( ابرٰہیم 4 )
یعنی ’’ اور ہم نے جب بھی کوئی رسول بھیجا، خود اُس کی قوم کی زبان میں بھیجا،تاکہ وہ اُن کے سامنے حق کو اچھی طرح واضح کر سکے۔‘‘ (آسان ترجمۂ قرآن)
اس قرآنی اصول کو مدنظر رکھاجائے تومرزا کذّاب اور دجّال ثابت ہوتاہے لیکن ہم خود مرزا قادیانی کی زبانی بھی نقل کرتے ہیں کہ وہ وحی اور الہامات کے بارے میں کیا نظریہ رکھتا ہے۔چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ:
’’اور نیز یاد رہے کہ خدا کے مکالمات ایک خاص برکت اور شوکت اور لذت اپنے اندر رکھتے ہیں۔۔۔۔ ماسوا اس کے شیطان گُنگا ہے۔اپنی زبان میں فصاحت اور روانگی نہیں رکھتا اور گُنگے کی طرح وہ فصیح اور کثیر المقدار باتوں پر قادر نہیں ہو سکتا صرف ایک بدبودار پیرایہ میں فقرہ دو فقرہ دل میں ڈال دیتا ہے‘‘ ۔
نوٹ: جدید کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن میں’ دو‘ کی بجائے ’دوہ‘ لکھا ہوا ہے۔
اس سلسلے میں مزید چند حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں:
1:۔ ’’اگر میرے الہامات بھی ویسے ہی معمولی اور فضول ٹکڑے ہوتے اور ہر ایک میں علم غیب اور اقتداری پیش گوئیاں نہ ہوتیں تو میں اِنہیں محض ہیچ سمجھتا ۔۔۔میرے الہاموں سے قوم کا فائدہ اور اسلام کا فائدہ ہوتاہے اور یہی معیار بڑا بھاری معیارہے ۔جو میرے الہامات کے منجانب اللہ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔۔۔ اب ایسا وقت ہے کہ ہمارے دوستوں کو چاہئے کہ بہت دفعہ ملاقات کیا کریںتاکہ نئے نشانوں کو دیکھنے سے جو