باب ششم

نہیں رہی اسی طرح آیت ’’خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ سے یہ ثابت ہوگیا کہ سلسلہ نبوت ورسالت بھی ختم ہوگیا۔ 

اس کا ایک جواب یہ بھی ہے کہ ’’کُمْ‘‘ ضمیر کا مخاطب کون ہے؟ امتِ مسلمہ یا قادیانی گروہ؟؟؟ ۔۔۔۔ فَافْھَمْ۔ 

آیت نمبر2: ’’اَللّٰہُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ‘‘۔

 یعنی بیشک اﷲ تعالیٰ فرشتوں اور آدمیوں میں سے پیغام پہنچا نے والوں کو چن لیتا ہے۔ 

قادیانی طرزِ استدلال: 

اس آیت سے واضح طور پر معلو م ہورہا ہے کہ نبوت ورسالت کا سلسلہ جاری ہے۔’’یَصْطَفِیْ‘‘مضارع کا صیغہ ہے جوحال و استقبال دونوںپر دلالت کرتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ فرشتوں اور لوگوں سے رسول چنتا رہے گا لہذا ہمارا مدعا ثابت ہوا۔ 

جواب نمبر1: 

یہ دلیل بھی دعویٰ کے مطابق نہیں،دلیل اور دعویٰ میں مطابقت ثابت کیجئے کیونکہ تمہارا دعویٰ خاص ہے او ردلیل عام ہے جب کہ رسول کا لفظ مرز اقادیانی کے نزدیک عام ہے۔

اورمرز اقادیانی خود تسلیم کرتے ہیں، ’’ایک عام لفظ کوکسی خاص معنی میں محدود کرناصریح شرارت ہے۔‘‘

جواب نمبر2: 

یہاں پر اﷲتعالیٰ نے ’’یَصْطَفِیْ‘‘ فرمایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ چنے گا حالانکہ تم جس نبوت کے اجراء کے قائل ہو وہ اﷲ تعالیٰ کے چننے سے نہیں بلکہ اطاعت (کسب)سے حاصل ہوتی ہے۔