باب ششم

’’وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا‘‘ وغیرہ اس سلسلہ کو بیان کرتے کرتے آگے چل کر فرمایا ’’ثُمَّ بَعَثْنَا مِن مبَعَدِھِم مُّوْسٰی‘‘پھر دور تک موسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ چلا گیا ، حتی کہ نبی کریم  ﷺ تک سلسلۂ نبوت کوپہنچادیا اور پھر نبی کریم  ﷺ کا تذکرہ یوں فرمایا: 

’’قُلْ یٰٓاَیُّھَاالنَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اﷲِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعَا‘‘۔ 

ترجمہ:  (اے رسول! اِن سے) کہو کہ ’’اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں‘‘۔

اس سے معلوم ہوا کہ اﷲ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو نازل کرنے کے بعد رسولوں کے بھیجنے کا وعدہ فرمایا تھا اور پھر اس کے بعد اپنے وعدے کے مطابق جن رسولوں کو بھیجا ان کی ایک مختصر تاریخ بیان کی حتی کہ اس رسالت کو حضور ﷺ تک پہنچا کر آپﷺ پر نبوت و رسالت کے سلسلہ کومکمل فرمادیا، اب کسی نئے نبی یا شریعت کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ 

جواب نمبر 7:

اگر اس آیت سے نبوت جاری ثابت ہوتی ہے تواس قسم کی یہ آیت بھی موجود ہے  فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ھُدًی فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ۔

ترجمہ:

’’پھر اگر آوے تمھارے پاس میری طرف سے کسی قسم کی ہدایت،سوجو شخص پیروی کرے گا میری اس ہدایت کی تو نہ کچھ اندیشہ ہو گا ان پر،اور نہ ایسے لوگ غمگین ہوں گے‘‘۔ 

اس آیت میں بھی وہی ’’یَاْتِیَنَّکُمْ‘‘ ہے او راس کا سیاق وسباق بھی وہی ہے اگر اس آیت سے نبوت ورسالت جاری ہے تو اِس آیت سے شریعت جاری ہے حالانکہ وہ تمہارے نزدیک بھی بند ہے ۔مَا ھُوَ جَوَابُکُمْ فَھُوَ جَوَابُنَا۔ 

مرزا ئی اعتراض: 

ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اس آیت سے شریعت کا جاری ہونا ثابت ہو تا ہے لیکن اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ… الخ.۔ اِس آیت سے ثابت ہو گیا کہ دین اور شریعت مکمل ہوچکی ہے لہٰذا اب کسی قسم کی نئی شریعت کی ضرورت نہیں رہی۔ 

جواب: جیسے اس آیت سے یہ ثابت ہواکہ شریعت مکمل ہوگئی مزید شریعت کی ضرورت