باب ششم

جواب نمبر 3: 

آپ کا دعویٰ حضور ﷺ کے بعد نبوت جاری ہونے کا ہے اس میں حضورﷺکے بعد کا کوئی ذکر نہیں بلکہ مطلق ہے لہذا اس اعتبار سے دعویٰ آپ کی دلیل کے مطابق نہیں رہا۔ 

آیت نمبر 3: 

’’وَمَنْ یُّطِع اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اﷲُ عَلَیْھِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّھَدَآئِ وَالصّٰلِحِیْنَ ج وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقاً‘‘۔

 ترجمہ :’’اور جو لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے تو وہ ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے، یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین ۔اور وہ کتنے اچھے ساتھی ہیں!‘‘۔

طرز استدلال: 

اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کی امت کوآپ کی اطاعت سے نبوت حاصل ہوتی ہے جس طرح آپ کی اطاعت سے امت میں صالح شہید اور صدیق ہوتے ہیں اسی طرح آپ کی اطاعت سے نبی بھی ہوتے ہیں اوریہی ہمارا دعویٰ ہے کہ آپ کی اطاعت والی نبوت جاری ہے لہذا ہمارے دعویٰ کیلئے یہ صریح دلیل ہے کیونکہ بالاتفاق حضور ﷺ کی اطاعت سے تین درجے ہوتے ہیں۔ اس لئے آیت کا یوں معنی کرنا درست نہیں ہوگا کہ اﷲ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والے ان چار قسم کے لوگوں کے ساتھ ہونگے اور انہیں ان کی رفاقت حاصل ہوگی بلکہ جب تین درجے اطاعت سے حاصل ہوتے ہیں تو چوتھا درجہ بھی اطاعت سے حاصل ہوگا وہ نبوت کا درجہ ہے اور یہاں پر مع کا معنی وہی ہے جو ’’تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ‘‘  میں ہے۔ 

جواب نمبر1: 

کسی ایک مجدد یا مفسر سے اپنے معنی کی توثیق پیش کریں۔