باب ششم
بِالْقُوَّہْ ہوتا ہے اور اگر باب ِنبوت مسدودنہ ہوتا تو ہریک محدث اپنے وجود میں قوت اور استعداد نبی ہو جانے کی رکھتا تھاا ور اسی قوت اور استعداد کے لحاظ سے محدث کا حمل نبی پر جائز ہے یعنی کہہ سکتے ہیں ’’اَلْمُحَدَّثُ نَبِیٌّ‘‘ جیسا کہ کہہ سکتے ہیں اَلْعِنَبُ خَمْرٌ۔۔۔۔الخ‘‘۔
لہٰذا یہ بات ثابت ہوگئی کہ اطاعت کرنے سے مرزا کے نزدیک جو نبوت حاصل ہوتی ہے وہ مُحَدَّثِیَّتْ ہی ہے جس کا انکار کفر نہیں اوررہا اطاعت اور کسب سے اس مقام کا حاصل ہونا۔۔۔اس میں نزاع باقی ہے جس کا بارِ ثبوت قادیانی گروہ پر ہے۔(کیونکہ مرزا قادیانی کے نزدیک محدثیت وہبی ہے ۔
حوالہ نمبر2 :
’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وجود ظلی طور پر گویا آنجناب ﷺ کا وجود ہی تھا۔‘‘
حوالہ نمبر 3:
’’صدہا ایسے لوگ گذرے ہیں جن میں حقیقت ِمحمدیہ متحقق تھی اور عنداﷲ ظلی طور پر ان کا نام محمد یا احمد تھا۔‘‘
نتیجہ: مذکورہ بالا حوالوں سے بھی یہ بات واضح ہوگئی کہ اتباع اور اطاعت سے نبی نہیں ہوسکتے جبکہ بقول ان کے صدہا شخص ایسے گزر چکے ہیں جن کا نام ظلی طور پر محمد اور احمد تھا اور حضرت عمر کا وجود بھی ظلی طور پر حضور کا ہی وجود تھا۔ تو کیا ان میں سے کسی ایک نے بھی نبوت کا دعویٰ کیااور کوئی اپنی علیحدہ جماعت یاامت بنائی یا اپنے منکرین کو کافر یا جہنمی کہا۔ فَعَلَیْکُمُ الْبَیَانُ بِالْبُرْھَان۔ (یعنی،دلیل کے ساتھ وضاحت تمہارے ذمہ ہے)۔
جواب نمبر7:
امت میں سے سب سے اونچا مقام صدیقیت کا ہے، شہید اور صالح اس سے نیچے کے مقام پرہیں۔ اطاعت کرنے سے یہ امت والے ہی مراتب حاصل ہوسکتے ہیں نہ