باب ششم
زائد ہوگا کیونکہ جب اطاعت کرنے سے وہ لوگ خود نبی او رصدیق بن گئے تو پھر یہ کہنے کی کیا ضرورت ہے کہ ان لوگوں کی رفاقت اچھی ہوگی۔
جواب نمبر 4:
اگر ’’مَعَ‘‘ کامعنی ’’مِنْ‘‘ لیاجائے تو درج ذیل آیات کا کیا معنی ہوگا:
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ…الخ اور اِنَّ اﷲَ مَعَ الصَّابِرِیْنَ…؟؟؟
جواب نمبر 5:
مشہور مفسر اما م فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ (543ھ606-ھ)جو مرزا کے نزدیک چھٹی صدی کے مجدد ہیں انہوں نے تمہارے معنی کی صریح اور واضح تردید کی ہے:
’’وَمَعْلُوْمٌ أَنَّہٗ لَیْسَ الْمَرَادُ مِنْ کَوْنِ ھٰٓؤُلَائِ مَعَھُمْ ھُوَ أَنَّھُمْ یَکُوْنُوْنَ فِیْ عَیْنِ تِلْکَ الدَّرَجَاتِ لِاَنَّ ھٰذا مُمْتَنِعٌ‘‘۔
ترجمہ: ’’یہ بات معلوم ہوکہ یہاں ان کے ساتھ ہونے سے یہ مراد نہیں ہے کہ وہ ان ہی کے درجہ میں ہوںگے کیونکہ یہ بات محال ہے۔‘‘
امام رازی رحمۃ اللہ علیہ مرزا قادیانی کے نزدیک چھٹی صدی کے مجدد ہیں شاید انہیں بذریعہ کشف معلوم ہوگیا تھا کہ قادیانیوں نے اس آیت سے غلط استدلال کرنا ہے لہٰذا آٹھ سو سال قبل انہوں نے اس کی وضاحت کر کے قادیانیوں کے استدلال کی دھجیاں اُڑادیں۔
جواب نمبر 6:
مرزانے خود اقرار کیا کہ اطاعت کرنے سے اور’’ فَنَا فِی الرَّسُوْل‘‘ ہوجانے سے نبوت نہیں ملتی بلکہ زیادہ سے زیادہ ’’مُحَدَّثِیَّتْ ‘‘کا درجہ حاصل ہوسکتا ہے اس سے نہیں بڑھ سکتا۔
حوالہ نمبر 1:
’’آنحضرت ﷺ کے ملفوظاتِ مبارکہ اشارت فرما رہے ہیں کہ محدَّث نبی