باب ششم

کہ وہ خودنبوت کے مدعی بن جائیں۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت جو حضور ﷺ کی پوری پوری متبع اور مطیع ہے جن کو دنیا ہی میں اﷲ تعالیٰ نے راضی ہوکر جنت کے سرٹیفکیٹ عطا فرمادیے اور ایسی اتباع کا نمونہ پیش کیا کہ قیامت تک اس کی نظیر نہیں پائی جاسکتی اور بقول مرزا ان میں حقیقت محمدیہ متحقق ہوچکی تھی اور حضورﷺ بھی ان کے متعلق ارشاد فرمارہے ہیں۔ 

 ’’ لَوْکَانَ بَعْدِیْ نَبِیٌّ لَکَانَ عُمَرُ‘‘ ۔ 

 ترجمہ:  

’’اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب( رضی اللہ عنہ )ہوتا۔‘‘ 

اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کے بارے میں فرمایا: 

’’ اَبُوْبَکْرٍ خَیْرُ النَّاسِ اِلَّااَنْ یَکُوْنَ نَبِی ‘‘۔ 

یعنی ’’ابوبکر رضی اللہ عنہ تمام لوگوں سے افضل ہیں،سوائے نبیوں کے‘‘لیکن اس کے باوجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کوئی بھی نبوت کے مقام پر فائز نہ ہوا، اور کسی نے نبوت کا دعویٰ نہ کیا بلکہ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ (المتوفّٰی13؁ھ) صرف اور صرف ’’صدیق‘‘اور’’خلیفۃ الرسول‘‘ہی ہیں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ (المتوفّٰی24؁ھ) صرف شہید ،  مُحدَّث اور امیر المؤمنین ہی بنے لیکن نبی تو کوئی بھی نہ بن سکے۔ اب امت میں کون دعویٰ کرسکتا ہے کہ اس نے ان حضرات سے بڑھ کر اتباع کی ہے اور نبوت کے مقام پر پہنچ گیاہے۔ 

جواب نمبر8:  

اگر اطاعت سے نبوت ملتی ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمرکوکیوں نہیں ملی۔ 

ع    ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہیے