باب ششم

مرزائی اعتراض: 

اگر آیت میں درجات کا ذکر نہیں اور محض رفاقت کا ذکر ہے تو آپ نے تین درجے صدیق ،شہید اور صالح کہاں سے نکال لیے کیونکہ بقول آپ کے اس آیت کا معنی یوں ہوگا کہ جو اﷲ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ نبیوں کے ساتھ ہوگا وہ خود نبی نہیں ہوگا اور اسی طرح وہ صدیقوں کے ساتھ ہوگاخود صدیق نہیں بنے گا حالانکہ اس طرح تمہارے نزدیک بھی نہیں ۔ 

جواب نمبر1: اس آیت میں اس بات کا قطعاً ذکر نہیں ہے کہ کوئی شخص اطاعت کر کے نبی یا صدیق یا شہید ہوگا یا نہیں بلکہ یہاں مقصود صرف اطاعت کا نتیجہ بیان کرنا ہے کہ جو اطاعت کرے گا اس کو ان حضرات کے ساتھ رفاقت فی المکان حاصل ہوگی۔ 

جواب نمبر2:

ہم جو یہ سمجھتے ہیں کہ اطاعت کرنے سے نبی نہیں ہوگا یہ مقدمہ اس آیت سے نہیں بلکہ دوسری آیتوں کی بنا ء پر ہے جیسے خاتم النبیین والی آیت کیونکہ خاتم الصدیقین اور خاتم الشہداء اور خاتم الصالحین کی کوئی آیت نہیں ہے اگر اس طرح خاتم النبیین کی آیت بھی نہ ہوتی تو ہم نبوت بھی مان لیتے لیکن نبوت کا درجہ ماننے سے یہ آیت اور اس جیسی اور نصوص صریحہ اور احادیث صحیحہ مانع ہیں۔ 

جواب نمبر3: 

اطاعت سے تین درجے جو ہم مانتے ہیں وہ اس آیت سے نہیں مانتے کیونکہ اس آیت میں درجات کا ذکر ہی نہیں وہ دوسری آیتوں سے مانتے ہیں جن میں درجات کا ذکر ہے اور جن آیات میں درجات بیان کئے گئے ہیں وہاں نبوت کا درجہ نہیں۔ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں 

’’ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاﷲِوَرُسُلِہٖٓ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الصِّدِّیْقُوْنق وَالشُّھَدَآئُ عِنْدَ رَبِّھِمْ‘‘۔ 

ترجمہ:  ’’اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں، وہی اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔‘‘