باب ششم
جواب نمبر 2:
دلیل دعویٰ کے مطابق نہیں کیونکہ’’ اَلنَّبِیِّیْن‘‘کا لفظ نبیوں کی تمام اقسام کو شامل ہے اگر اطاعت سے نبوت حاصل ہورہی ہے تو وہ ہر قسم کی ہوگی اور یہ تمہارے اپنے عقیدے اور دعویٰ کے خلاف ہے۔
جواب نمبر3: شان نزول
آیت کے شان نزول سے مطلب بخوبی واضح ہو رہا ہے۔ شان نزول یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے ایک غلام حضرت ثوبان رضی اﷲ عنہ نے عرض کی کہ یارسول اﷲ ﷺ جنت میں آپ بہت بلند مقام پر ہوں گے اور ہم خدا جانے کہاں ہونگے کیا ہماری آپ سے ملاقات ہوسکے گی اور ہم اپنی آنکھوں کو آپ کے دیدار سے ٹھنڈا کرسکیں گے دنیا میں تو جب تھوڑی دیر بھی ہم آپ سے جدا ہوتے ہیں تو آپ کی جدائی قابل برداشت نہیں ہوتی اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والوں کو ان نیک لوگوں کی رفاقت حاصل ہوگی اس سے معلوم ہوا کہ یہاں درجات کا ذکر نہیں ہے بلکہ محض رفاقت کا ذکر ہے۔
جواب نمبر 4:
اسی آیت کی تفسیر میںعمدۃ المفسرین حافظ عماد الدین ابو الفداء اسماعیل ابنِ کثیر (المتوفٰی 774ھ)ایک حدیث لائے ہیں جسے امام ترمذی (ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ الترمذی،المتوفٰی279ھ) نے روایت کیا ہے جو بعینہٖ اس آیت کی طرح ہے ،فرمایا:
’’اَلتَّاجِرُ الصَّدُوْقُ الْاَمِیْنُ مَعَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّھَدَائِ ‘‘۔
یعنی سچے ،امانت دار تاجر کا انجام انبیاء اور صدیقین، اور شہداء کے ساتھ ہو گا۔
تو کیا یہاں پر یہ مطلب ہوگا کہ سچا تاجر بھی نبی اور صدیق بن جائے گا یا یہ مطلب ہے کہ سچے تاجروں کو ان لوگوں کی رفاقت نصیب ہوگی؟؟؟