باب ششم

دیکھئے یہاں درجوں کا ذکر ہورہا ہے رفاقت او رمعیت کا ذکر نہیں ہے تو یہاں ’’اُولٰئِکَ ھُمُ النَّبِیُّوْنَ‘‘ نہیں فرمایا بلکہ ’’صِدِّیْقُوْنَ‘‘ اور ’’شُہَدَآئُ‘‘ فرمایاہے۔ 

جواب نمبر4:

اگر بقول آپ کے اطاعت سے یہ درجات حاصل ہوتے ہیں توہم سوال کرتے ہیں کہ یہ درجات کیسے ہیں کیا حقیقی یا ظلی یا بروزی۔ اگر اطاعت سے نبی ظلی اور بروزی بنتے ہیں تو صدیق ،شہید اور صالح بھی ظلی اور بروزی ہونے چاہییں اور اگر وہ تین درجے حقیقی ہیں تو نبی بھی حقیقی ہونا چاہیے یہ کہاں کا انصاف ہے کہ جب اطاعت کرنے سے یہ چار درجے حاصل ہوتے ہیں ان میں سے تین تو حقیقی ہوں اور ایک ظلی ؍بروزی ہو، یا چاروں حقیقی مانو یا چاروں ظلی ؍بروزی اور اگر کہو کہ ظلی ؍بروزی صدیق، شہیدنہیں ہوتے۔ اول تو یہ مسلّم نہیں اگر مان بھی لیا جائے توہم کہتے ہیں کہ ظلی بروزی نبی بھی کوئی نہیں یہ بھی تمہاری جدیداصطلاح ہے اور اگر کہوکہ ظلی شہید ہوتے ہیں تو ہم پوچھتے ہیں کیا ظلی اور حقیقی شہید کا حکم ایک ہے؟ اور یہ ظاہر ہے کہ حکم ایک نہیں کیونکہ مبطون اور غریق وغیرہ شہداء کو غسل دیا جا تا ہے حالانکہ حقیقی شہید کو غسل نہیں دیا جاتا معلوم ہوا کہ حکم ایک نہیں اور تمہارے نزدیک ظلی نبی کے احکام وہی ہیں جو حقیقی نبی کے ہیں کیونکہ تمہارے نزدیک ظلی نبی کا منکر کافر ہے۔

مرزائی اعتراض: یہاں ’’مَعَ‘‘ معنی ’’مِنْ‘‘ ہے۔ 

جواب نمبر 1: 

اوّل تو ہم یہ تسلیم ہی نہیں کرتے کہ ’’مَعَ‘‘ بمعنی ’’مِنْ‘‘ کے ہوتا ہے کیونکہ کلام عرب میں ’’مَعَ؍مِنْ‘‘ کے معنی میں استعمال نہیں ہوتا اگر یہ ’’مِنْ‘‘ کے معنی میں ہوتا تو ’’مَعَ‘‘ پر ’’مِنْ‘‘ داخل نہ ہوسکتا حالانکہ کلام عرب میں اس کا ثبوت ملتا ہے دیکھو لغت کی مشہور کتاب ’’اَلْمِصْبَاحُ الْمُنِیْر‘‘ میں ہے:وَدُخُوْلِ مِنْ عَلَیْہِ نَحْوُ جِئْتُ (مِنْ مَعِہٖ)۔‘‘

یعنی عرب ’’جِئْتُ مِنْ مَّعَ الْقَوْمِ‘‘ بولتے ہیں پس ’’مَعَ‘‘ پر ’’مِنْ‘‘ کا داخل ہونا اس بات کا مشعرہے کہ ’’مَعَ‘‘