باب پنجم
شرع سے جیسا کہ نص کیا ا س پر علمائے امت نے، اور اس کی تاکید میں حدیثیں واردہوئی ہیں اور اس پر امتِ محمدی کا اجماع بھی قائم ہو چکا ہے‘‘۔
7۔ امام البکریؒ (ابوالحسن محمد بن عبدالرحمن البکری الصدیقی الشافعی( المتوفی 905ھ)اپنی تفسیر الواضح الوجیز میں لکھتے ہیں: ’’وَالْاِجْمَاعُ عَلٰی أَنَّہٗ حَیٌّ فِی السَّمَائِ یَنْزِلُ وَ یَقْتُلُ الدَّجَّالَ وَیُؤَیِّدُالدِّیْنَ‘‘۔
ترجمہ: ا س بات پراجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں وہ نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے اور دین (اسلام) کی تائید کریں گے۔
8۔ مشہور متکلم امام السفارینیؒ (محمد بن احمد بن سلیمان السفارینیؒ،1114ھ۔۔۔۔ 1188ھ) رقم طراز ہیں کہ:
’’وَاَجْمَعَتِ الْاُمَّۃُ عَلٰی نُزُوْلِہٖ وَلَمْ یُخَالِفْ فِیْہِ اَحَدٌ مِّنْ أَھْلِ الشَّرِیْعَۃِ وَ اِنَّمَااَنْکَرَذٰلِکَ الْفَلاَسِفَۃُ وَالْمَلَاحِدَۃُ مِمَّا لَایُعْتَدُّبِخِلَافِہٖ‘‘۔
ترجمہ: ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول پر امت کا اجماع ہے اور اہلِ شریعت (اسلام) میں سے کسی ایک نے بھی اس کی مخالفت نہیں کی اور نزول حضرت مسیح علیہ السلام کا انکار صرف فلاسفہ، ملاحدہ اور بے دین لوگوں نے کیا ہے کہ جن کی مخالفت ناقابلِ التفات ہے‘‘۔
9۔ رئیس المتکلمین علامہ سید محمود آلوسیؒ (المتوفٰی1270ھ)ختم نبوت کے مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں یوں تحریر فرماتے ہیں کہ:
’’وَلَا یَقْدَحُ فِیْ ذٰلِکَ مَا أَجْمَعَتِ الْاُمَّۃُ عَلَیْہِ وَ اشْتَھَرَتْ فِیْہِ الْأَخْبَارُ وَلَعَلَّھَا بَلَغَتْ مَبْلَغَ التَّوَاتُرِ الْمَعْنَوِیِّ وَنَطَقَ بِہِ الْکِتَابُ عَلٰی قَوْلٍ وَوَجَبَ الْاِیْمَانُ بِہٖ وَأُکْفِرَ مُنْکِرُ
ہٗ کَالْفَلَاسِفَۃِ مِن نُّزُوْلِ عِیْسٰی عَلَیْہِ السَّلاَمُ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ‘‘۔
ترجمہ: ’’اور اس بات سے ختم نبوت کے عقیدہ پر کوئی زد نہیں پڑتی جس پر امت کا