باب پنجم
اجماع ہے اور اِس پر مشہور روایات موجود ہیں اور شاید کہ یہ تواترِ معنوی کو پہنچی ہوئی ہوں اور ایک تفسیر کی رُو سے یہ قرآن کریم سے بھی ثابت ہے اور اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس کے منکر جیسے فلاسفہ وغیرھم کافر ہیں اور وہ بات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آخری زمانہ میں نازل ہونا ہے‘‘۔
10۔ علامہ محدث محمد بن جعفر الکتانیؒ(1274ھ۔۔۔۔1345ھ) تحریر کرتے ہیں کہ:
’’وَقَدْ ذَکَرُوْا أَنَّ نُزُوْلَ سَیِّدِنَا عِیْسَی عَلَیْہِ السَّلاَمُ ثَابِتٌم بِالْکِتَابِ وَالسُّنَّۃِ وَالْاِجْمَاعِ۔۔۔ الخِ‘‘۔
ترجمہ: ’’اور تحقیق علماء نے ذکر کیا ہے کہ حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا نزول کتاب وسنت اور اجماع سے ثابت ہے‘‘۔
قادیانیوں کے دلائل وفات مسیح علیہ السلام کی تردید
قرآن مجید سے غلط استدلال اور ان کے جوابات
مرزائیوں نے زمانہ ماضی میں سیدنا عیسٰی علیہ السلام کے لئے موتِ اجل کے آچکنے پر اپنے زعم میں قرآن پاک سے بھی کچھ دلائل دیئے ہیں۔ذیل میں ان کے اہم دلائل کے جواب ملاحظہ ہوں۔
آیت نمبر1:
’’فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْھِمْ ط وَاَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ٍٔ شَہِیْدٌ.‘‘
ترجمہ: ’’ پھر جب آپ نے مجھے اُٹھا لیا تو آپ خود اُن کے نگران تھے، اور آپ ہر چیز کے گواہ ہیں‘‘۔
مرزائی استدلال:
قادیانی کہتے ہیں کہتَوَفَّیْتَنِیْ کا معنی ہے کہ’’ جب تو نے مجھے موت دے دی‘‘ تو اس طرح یہ آیت اس بات کی صریح دلیل ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں اگر ہم فوت شدہ تسلیم نہ کریں تو یہ اعتراض لازم آئے گا کہ اب جو عیسائی بگڑے