باب پنجم
کاحمل اسی طرح رہا جس طرح عام عورت اپنا بچہ جنتی ہے۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اسی طرح غذ اکھائی جس طرح دوسرے بچے غذا کھاتے ہیں۔پھر وہ خود کھاتے پیتے تھے اور قضائے حاجت کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہاں، آپﷺ نے فرمایا کہ پھر تمہارا خیال کیسے صحیح ہوا۔اس پر وہ خاموش ہو گئے ‘ ‘۔
ناظرین! دیکھیٔے ’’اَلَسْتُمْ تَعْلَمُوْن‘‘ چھ دفعہ آیا ہے۔اگر کسی طباعت میں یہ چیز حذف ہو گئی ہے تویقینا کتابت کی غلطی تصور کی جائے گی۔
اہم نکتہ: برسبیل تنزیل یعنی بفرض محال اگر ہم قادیانیوں کی اس بات کو تسلیم کرلیں کہ أَتٰی عَلَیْہِ الْفَنَائُ ہی موجود تھا تو پھر بھی ان کا موقف ثابت نہیں ہوتا۔ اور نہ انہیں کوئی فائدہ حاصل ہوتاہے۔کیوںکہ امر یقینی کیلئے جو ابھی تک وقوع پزید نہ ہوا ہو اس کیلئے ماضی کا صیغہ استعمال کرکے استقبال کا معنی مرادلیا جاتاہے۔قرآن کریم میں اس کے نظائر موجودہیں خصوصاً قیامت کا ذکر اکثر ماضی کے صیغوں میں آیا ہے۔ حالانکہ قیامت ابھی واقع نہیں ہوئی۔چونکہ یہ امر یقینی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اسے ماضی کے صیغوں میں ذکرفرمایا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی اس کوقاعدہ تسلیم کیا ہے۔چنانچہ اربعین نمبر4 کے تتمہ میں لکھتا ہے کہ: ’’لیکن پیش گوئی کے طور پر جہاں کہ خداکے کلام میں کسی کو کہا جاتاہے کہ وہ ضرور مر جائے گا تو وہاں بھی یہ لفظ بول کر ماضی سے استقبال کا کام لیتے ہیں۔ یعنی اگرچہ وہ موت ابھی وقوع میں نہیں آئی تاہم اس کا واقع ہونا ایسا یقینی ہے کہ گویا وہ مرگیا ہے یا مرا ہو اہے اور اس قسم کے محاورے ہر زبان میں ہوتے ہیں‘‘۔
مزید برآں ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم میں مرزا قادیانی لکھتاہے کہ:’’ جس شخص نے کافیہ یا ہدایت النحو بھی پڑھی ہو گی وہ خوب جانتاہے کہ ماضی مضارع کے معنوں پر بھی آجاتی ہے۔ بلکہ ایسے مقامات میں جب کہ آنے والا واقع متکلم کی نگاہ میں یقینی الوقوع ہو مضارع کو ماضی کے صیغہ پر لاتے ہیں تاکہ اس امر کا یقینی الوقوع ہونا ظاہر ہو اور قرآن شریف میں اس