باب پنجم

’’ فَقَالَ لَھُمُ النَّبِیُّ ۔۔۔:أَلَسْتُمْ تَعْلَمُوْنَ اَنَّہٗ لَا یَکُوْنُ وَلَدٌ۔اِلَّا وَھُوَ یُشْبِہُ اَبَاہُ؟ نَعَمْ،قَالَاَلَسْتُمْ تَعْلَمُوْنَ اَنَّ رَبَّنَا حَیٌّ لَّا یَمُوْتُ وَاَنَّ عِیْسیٰ یَأْتِیْ عَلَیْہِ الْفَنَائُ ؟ قَالُوْابَلٰی، قَالَاَلَسْتُمْ تَعْلَمُوْنَ اَنَّ رَبَّنَا قَیِّمٌ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ یَکْلُوْہُ

 وَیَحْفَظْہٗ وَیَرْزُقُہٗ؟ قَالُوْابَلٰی، قَالَفَھَلْ یَمْلِکُُ عِیْسیٰ مِنْ ذٰلِکَ شَیْأً؟ قَالُوْالَا، قَالَاَلَسْتُمْ تَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰہَ لَا یَخْفٰی عَلَیْہِ شَیٌْٔ فِیْ الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَائِ؟ قَالُوْابَلٰی،

 قَالَفَھَلْ یَعْلَمُ      عِیْسیٰ مِنْ ذٰلِکَ شَیْأً اِلَّا مَاعُلِمَ ؟، قَالُوْالَا ، قَالَفَاِنَّ رَبَّنَا صَوَّرَ عِیْسیٰ فِی الرَّحْمِ کَیْفَ شَائَ، قَالَاَلَسْتُمْ تَعْلَمُوْنَ اَنَّ رَبَّنَا لَا یَاْکُلُ الطَّعَامَ وَلَا

 یَشْرَبُ الشَّرَابَ وَلَا یَحْدُثُ الْحَدَثَ؟، قَالُوْابَلٰی، قَالَ : اَلَسْتُمْ تَعْلَمُوْن أَنَّ عِیْسٰی حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ کَمَا تَحْمُلُ الْمَرْاَۃُ ثُمَّ وَضَعَتْہُ کَمَا تَضَعُ الْمَرْاَۃُ وَلَدَھَا، ثُمَّ غُذِیَ کَمَا یُتَغَذّٰی 

الصَّبِیُّ ثُمَّ کَانَ یَطْعَمُ الطَّعَامَ وَ یَشْرَبُ الشَّرَابَ وَیَحْدُثُ الْحَدَثَ؟۔ قَالُوْابَلٰی۔ قَالَفَکَیْفَ یَکُوْنُ ھٰذَا کَمَا زَعَمْتُمْ؟۔ قَالَ : فَعَرِفُوْا ثُمَّ اَبَوْا اِلَّا جُحُوْدًا ‘‘۔  

ترجمہ ’’نبی اکرم ﷺ نے ان سے کہا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ بیٹا ہر حال میں باپ کے مشابہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا:ہاں، کیوں نہیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا رب ’’حَیٌّ لَایَمُوْت‘‘ ہے ،یعنی وہ زندہ جاوید ہے جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر موت طاری ہو گی انہوں نے جواب دیاکہ،ہاں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا رب ہر چیز کا نگران ہے اس کی حفاظت کرتا ہے اور اسے رزق دیتا ہے۔ انہوں نے کہا،ہاں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے  حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو رحم مادر میں جس طرح چاہا صورت پذیر کر دیا۔ نیز ہمارارب نہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے اور نہ قضائے حاجت کرتاہے۔(یعنی عام انسانوں کی طرح)۔ انہوں نے کہا کہ ہاں کیوں نہیں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو ان