باب پنجم

کی بہت  نظیریں ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے ۔وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِ وَ اِذَا ھُمْ مِنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰی رَبِّھِمْ یَنْسِلُوْن 

 اور جیسا کہ فرماتا ہے۔ وَاِذْقَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ئَ اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰھَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ

قَالَ اللّٰہُ ھٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰادِقِیْنَ صِدْقُھُمْ

اور جیسا کہ فرماتا ہے ۔ وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِھِمْ مِّنْ غِلٍ اِخْوَانًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقَابِلِیْنَ

اور جیسا کہ فرماتا ہے وَ نَادٰٓی اَصْحَابُ الْجَنَّۃِ اَصْحَابَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْ نَا مَاوَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَھَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَرَبُّکُمْ حَقاًّ قَالُوْا نَعَمْ 

اور جیسا کہ فرماتاہے  تَبَّتْ یَدَاْاَبِیْ لَھَبٍ وَّ تَبَّ۔ مَآ اَغْنٰی عَنْہُ مَالُہٗ وَمَا کَسَبَ

 اور جیساکہ فرماتا ہے وَلَوْتَرٰٓی اِذْوُقِفُوْا عَلَی النَّارِ

اور جیسا کہ فرماتا ہے   وَلَوْتَرٰٓی اِذْوُقِفُوْا عَلَی رَبِّھِمْ قَالَ اَلَیْسَ ھٰذَا بِالْحَقِّ ط قَالُوْ بَلٰی وَرَبِّنَا

اب معترض صاحب فرمادیںکہ کیا یہ قرآنی آیات ماضی کے صیغے ہیں یا مضارع کے۔ اوراگر ماضی کے صیغے ہیں تو ان کے معنے اسجگہ مضارع کے ہیں یا ماضی کے۔ جھوٹ بولنے کی سز اتو اس قدر کافی ہے کہ آپ کا حملہ صرف میرے پر حملہ نہیں بلکہ یہ تو قرآن شریف پر بھی حملہ ہوگیا۔ گویا وہ صرف و نحو جو آپ کو معلوم ہے خدا کو معلوم نہیں اسی وجہ سے خدا نے جا بجا غلطیاں کھائیں اور مضارع کی جگہ ماضی کو لکھ دیا‘‘۔

قادیانیوں سے سوال:

 قادیانی اسباب نزول کے طبع مصر 1968؁ء کی طباعت میں غلطی کے بعد70کے عشرے میں اسے وفات مسیح کی دلیل اور مرزا کی صداقت کا نشان کہہ رہے ہیں۔حالانکہ اس سے پہلے مرزا قادیانی اور اس کے جانشینوں وغیرہ نے اسے بطور دلیل کیوں پیش نہیں کیا؟بلکہ عبدالرحمن خادم اپنی پاکٹ بک میں اس حدیث کی سند پر بحث کرکے اسے ضعیف اور موضوع ثابت کرنے کیلئے ہاتھ پاؤں مارتارہا۔قادیانیو! کب تک دنیا کو اس طرح دھوکہ دے کر مرزا قادیانی کی سچائی ثابت کرنے کی مذموم کوشش کرتے رہو گے؟