باب پنجم

قادیانی کی صداقت کا نشان بنا لیاہے۔ جبکہ علامہ واحدی نیشا پوری نے اسے بغیر سند اور حوالہ کے رقم کیا ہے۔ 

 قادیانیو! اگر جرأت ہے تو کسی مفسر یا محدث سے صحیح سند کے ساتھ ’’اَتٰی عَلَیْہِ الْفَنَائُ‘‘ والی روایت پیش کرو۔ 

قادیانی شگوفہ: قادیانی مؤرخ دوست محمد شاہد اپنی تصنیف ’’اسلامی لٹریچر میں خوفناک تحریف‘‘ میں لکھتا ہے کہ26دسمبر 1978؁ء سالانہ جلسہ چناب نگر(ربوہ) تقریر کرنے کا موقع ملا جس میں اس نے یہ حوالہ پیش کیا او ر1979؁ء میں اس تقریر کو شائع کیا گیا۔ جس کے ٹھیک چھ سال بعد 1985؁ء میں اس روایت کو حذف کردیا گیا۔جبکہ قندیل صداقت  میں ہے کہ اسے 1990؁ء میں حذف کیا گیا۔قادیانیوں کی اس بے بسی اور مشکلات پر ہمیں حیرانگی ہوتی ہے جب وہ مرزا قادیانی کی بارش کی طرح وحی سے اپنا عقیدہ ثابت نہ کر سکے او راب طباعت کی غلطیوں کا سہارا لے کر اپنے خود ساختہ عقیدے کو ثابت کرنے کی سعی لاحاصل کر رہے ہیں۔حالانکہ 1987؁ء بمطابق 1404؁ھ میں جدہ سے اسباب نزول کاایڈیشن چھپا جس کے مقدمہ میں تفصیل کے ساتھ مختلف طباعتوں کی غلطیوں کی نشاندہی کی گئی۔ اسی طرح 1990؁ء کی طباعت کی غلطی کے بعد 1992؁ء میں پھر قادیانی مزاج اور مذاق کے موافق پھر وہی الفاظ شامل طباعت ہوئے جو کہ آج کل نیٹ پر بھی موجود ہیں۔ 

ہم اب پوری روایت کو مع ترجمہ کے درج کر رہے ہیں۔ قارئین خود ملاحظہ فرمالیں گے کہ اس میں طباعت کی غلطی کوئی انہونی بات نہیں ہے ۔اردوترجمہ پروفیسر عبدالرزاق مغل ،طبع دارالاشاعت کراچی کا رقم کیا جا رہا ہے۔یاد رہے کہ مولانا خالد محمودصاحب نے بھی اس کا ترجمہ کیاہے جو کہ بیت العلوم لاہور والوں نے شائع کیا ہے، ان کے ترجمہ میںیَأْتِیْ عَلَیْہِ الْفَنَائُ کو مدنظر رکھنے کی بجائے أَتٰی عَلَیْہِ الْفَنَائُ کوپیش نظر رکھا گیا ہے جو ان کی غلطی ہے۔اس موضوع پر کام کرنے والے احباب خصوصی طورپر نوٹ فرما لیں: