باب پنجم
ہی ان کی والدہ کو بطور بشارت یہ بات فرما دی تھی کہ تیرے بیٹے کو قرآن کریم کی تعلیم دوںگا اگرانہوں نے دوبارہ قربِ قیامت نہیں آنا تھا تو انہیں قرآن سکھانے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا انبیاء سابقین میں سے کسی او رنبی کو بھی قرآن کی تعلیم دی گئی ہے ؟ لہذا اس سے صاف واضح طور پر معلوم ہوگیا کہ عیسیٰ علیہ السلام نے دوبارہ اس امت محمدیہ میں تشریف لانی ہے اور حضور ﷺ کی شریعت کی تابعداری کرنی ہے اس لئے خصوصیت سے آپ کو قرآن کی تعلیم دی اور پھر قیامت کے روز بطور احسان ذکر فرمائیں گے بلکہ پیدا ہونے سے پہلے بھی اس احسان عظیم کو ان کی والدہ کے سامنے بطور پیش گوئی بیان فرمایا۔
فائدہ عظیمہ:
اس آیت سے قادیانیوں کے ایک وسوسہ اورشبہ کا ازالہ ہوگیا جو وہ کہا کرتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام بقول تمہارے اس امت میں دوبارہ تشریف لائیں گے تو کیا وہ کسی مولوی کے پا س قرآن پڑھنے بیٹھیں گے یا ان کیلئے جبرائیل امین نازل ہوںگے کیونکہ انہوںنے زمین پر تو قرآن پڑھا نہیں تو آیت مذکورہ سے اس شبہ کا ازالہ ہو گیا کہ اﷲ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کو قرآن مجید کی تعلیم دیں گے جیسا کہ تورات وانجیل کی خود اﷲ تعالیٰ نے تعلیم دی۔