باب پنجم

اندر ہیں اور تیری آنکھیں ابروؤں کے نیچے ہیں تو یہ کوئی خاص تعریف کی بات نہیں ہے اور جس طرح یہ کلام تعریف نہیں بن سکتا اسی طرح اگر ’’وَیُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَھْدِ وَکَھْلاً‘‘ کو خار ق عادت نہ مانا جائے تو وہ بھی اسی طرح بے معنی ہوجائے گا کیونکہ کہولت اگر پہلے کی مراد لی جائے تو پھرہر ایک انسان کہولت کے زمانہ میں کلام کرتا ہے پھر یہ احسان خدا نے کاہے کو جتلایا احسان تب ہی بنتا ہے جبکہ اسے خارق عادت مانا جائے اور خارق عادت تب ہی ہوسکتا ہے جبکہ نزول کے بعد کہولت کے زمانہ میں ان کا کلام مانا جائے جیسا کہ مفسرین نے صراحت کردی ہے۔ 

آیت نمبر7: 

’’اِذْ کَفَفْتُ بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ عَنْکَ …الخ‘‘

 ترجمہ:  او رجب ہم نے بنی اسرائیل کو تجھے( نقصان پہنچانے ) سے روک دیا۔ 

یہ بھی قیامت کے روز اﷲ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے احسانات گنواتے ہوئے فرمائیں گے، اگر رفع اور نزول نہ مانا جائے تو ’’کَف‘‘ نہیں ہوسکتا کیا ’’کَف‘‘ ایسا ہوا کہ ان کو اتنامارا کہ وہ بے ہوش ہوگئے پسلی چھیدی گئی ، کانٹوں کا تاج پہنایاگیا حتیٰ کہ سولی پر چڑھادیا گیا لہذا ماننا پڑے گا کہ ان کو بالکل دشمنوں سے محفوظ رکھ کر آسمانوں پر اٹھاکر بنی اسرائیل سے بچالیا۔ 

آیت نمبر 8: 

  ’’وَاِذْعَلَّمْتُکَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَوَالتَّوْرٰیۃَ وَالْاِنْجِیْلَ…الخ.‘‘ 

 ترجمہ:  اور جب (اے عیسیٰ علیہ السلام!) میں نے تجھے کتاب و حکمت اورتورات و انجیل کی تعلیم دی تھی۔ 

یہاں بھی اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن احسان جتلاتے ہوئے یہ یا د دلائیں گے کہ میں نے تجھے قرآن کریم اور سنت کی تعلیم د ی بلکہ عیسیٰ علیہ السلام سے پیدا ہونے سے پہلے