باب پنجم
رفع و نزول کا اثبات احادیث نبویہ سے
حدیث نمبر 1:
’’ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَنْزِلُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ اِلَی الْاَرْضِ فَیَتَزَوَّجُ وَیُوْلَدُ لَہٗ وَیَمْکُثُ خَمْسًا وَّاَرْبَعِیْنَ سَنَۃً ثُمَّ یَمُوْتُ فَیُدْفَنُ مَعِیَ فِیْ قَبْرِیْ
فَاَقُوْمُ اَنَا وَعِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ فِیْ قَبْرٍ وَّاحِدٍم بَیْنَ اَبِیْ بَکْرٍ و عُمَرَ رَوَاہُ ابْنُ الْجَوزِیْ فِیْ کِتَابِ الوَفَا.‘‘
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام زمین پر اتریں گے، وہ نکاح کریں گے اور ان کی اولاد ہوگی۔ دنیا میں ان کی مدتِ قیام پینتالیس برس ہوگی، پھر ان کی وفات ہو جائے گی اور وہ میری قبر یعنی میرے مقبرہ میں میرے پاس دفن کیے جائیں گے۔ (چنانچہ قیامت کے دن) میں اور عیسیٰ (علیہ السلام) دونوں ایک مقبرہ سے ابوبکرؓ اور عمرؓ کے درمیان اٹھیں گے۔ اس روایت کو ابن جوزیؒ نے کتاب الوفا میں نقل کیا ہے۔
نوٹ: مرزا قادیانی کی تصدیق شدہ کتاب ’’عسلِ مصفّٰی‘‘ میں بھی یہ حدیث موجود ہے اور اس سے استدلال بھی کیا گیا ہے۔
مرزا اس کی تائید میں لکھتا ہے کہ’’اوراُس کے معنی کو ظاہر پر ہی حمل کریں تو ممکن ہے کہ کوئی مثیلِ مسیح ایسا بھی ہو جو آنحضرت ﷺ کے روضہ کے پاس مدفون ہو‘‘۔
مرزا کی اس عبارت سے واضح ہوگیا کہ قبر سے مراد یہاں پر روضہ ہے لہذا مرزائیوں کا اعتراض رفع ہوگیا دوسری بات یہ بھی واضح ہوگئی کہ مرزا نے اس حدیث کو صحیح بھی تسلیم کرلیا ہے۔چنانچہ مرزاقادیانی لکھتا ہے کہ:
’’اس پیش گوئی کی تصدیق کیلئے جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی پہلے سے ایک