باب پنجم

واقعہ رفع یا صلیب یا قتل بالاتفاق قبل الکہولت عالم جوانی میں ہوا ہے پس ضروری ہے کہ وہ دوبارہ نازل ہوں تاکہ زمانہ کہولت کی گفتگو بھی صحیح ہو جائے اب مہد میں کلا م کرنا خارق عادت ہے جیسا کہ مرزا قادیانی نے تریاق القلوب ص41 روحانی خزائن جلد 15ص 218,217 میں تسلیم کیاہے اور کہاہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے مہد میں کلام کی تو میرے بیٹے نے دو مرتبہ ماں کے پیٹ میں باتیں کیں تو مہد کی طرح ز مانہ کہولت کی کلام بھی خار ق عادت ہونی چاہیے اور وہ تب ہی ہوسکتا ہے جب ان کا دوبارہ نزول مانا جائے ورنہ زمانہ کہولت میں ہر ایک بات کرتا ہے تو پھر احسان کیسے ہوا۔  

امام رازیؒ اور امام علاؤالدینؒ ، صاحب خازن کا حوالہ 

 

امام فخر الدین رازی ؒ (543؁ھ ____ 606؁ھ)جو قادیانیوں کے نزدیک چھٹی صدی ہجری کے مجدد ہیں اپنی تفسیرِ کبیر اور علامہ علاء الدین ؒ 

تفسیرِ خازن میںاس کی یوں وضاحت فرماتے ہیں: 

’’اِنَّ الْمُرَادَ بِقَوْلِہٖ وَکَھْلًا اَنْ یَّکُوْنَ کَھْلًا بَعْدَ اَنْ یَّنْزِلَ مِنَ السَّمَائِ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ وَیُکَلِّمُ النَّاسَ وَیَقْتُلُ الدَّجَّالَ

 قَالَ الْحُسَیْنُ بْنُ الْفَضْلِ وَفِیْ ھٰذِہِ الآیَۃِ نَصٌّ فِیْ اَنَّہٗ عَلَیْہِ السَّلَامُ سَیَنْزِلُ اِلَی الْاَرْضِ

ترجمہ: ’’اللہ تعالیٰ کے قول (کہلاً)سے مراد یہ ہے کہ آخر زمانہ میں آسمان سے اترنے کے بعد بڑھاپے کو پہنچیں گے اور لوگوں سے ہم کلام ہوں گے نیز دجال کو قتل کریں گے ‘ حسین بن فضل کے بقول یہ آیت ان کی زمین پر دوبارہ تشریف آوری پر واضح دلیل ہے۔‘‘کَمَاقِیْلَ

دندان  تو  جملہ  در  دہانند 

چشمان  تو  زیر  آبرو  ہانند 

یہ کلام کسی نے اپنے محبوب کی تعریف میں کہا تھا کہ تیرے سارے دانت منہ کے