باب پنجم
حاصل یہ ہے کہ اس باب سے پہلے حضرت ابن عمررضی اللہ عنہما کی صحیح حدیث گزری ہے کہ جب (حاجی)رمی جمار کرتا ہے (جمرات کو کنکر مارتاہے) تو کوئی نہیں جانتا کہ اسے کیا اجر ملنے والا ہے یہاں تک کہ اللہ عزوجل اسے قیامت کے دن پوراپورا اجر دیں گے ۔یہ الفاظ ابن حبان کے ہیں۔
2) امام سراج الدین ابی جعفر عمر بن علی بن احمد المعروف بابن النحوی والمشہور بابن الملقَّن (المتوفّٰی 804ھ) اپنی تصنیف ’’عجالۃالمحتاج الی توجیہ المنھاج‘‘ میں ارشاد نبوی ﷺ تحریر فرماتے ہیں۔
وَ اِذَا رَمَی الْجَمَارَلَا یَدْرِی اَحَدٌ مَالَہٗ حَتّٰی یَتَوَفَّاہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔
ترجمہ: جب (حاجی)رمی جمار کرتا ہے (جمرات کو کنکر مارتاہے) تو کوئی نہیں جانتا کہ اسے کیا اجر ملنے والا ہے یہاں تک کہ اللہ اسے قیامت کے دن پوراپورا اجر دیں گے۔
3)۔ امام جلال الدین سیوطی(849ھ۔۔۔911ھ) جو مرزا قادیانی کے ہاں نویں صدی ہجری کے مجدد ہیں،اپنی تالیف جمع الجوامع المعروف بالجامع الکبیر میں نبی کریم
ہمارا چیلنج
1۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ اگرتَوَفِّی باب تَفَعُّل سے ہو ،اﷲ اس میں فاعل ہو اورایسا ذی روح اس کا مفعول ہو جو بن باپ پیدا ہوا ہو وہاں پر تَوَفِّی کا معنی پورا پورا لینا اور اٹھا نا ہوگا موت کا معنی نہیں ہے کوئی مرزائی مرد میدان ہے جو ہمارے اس قاعدے کو توڑ کر منہ مانگا انعام حاصل کرے اگر مرزائی کہیں کہ آ پ کا یہ قاعدہ کہاں لکھا ہوا ہے تو جواب یہ ہے