باب پنجم
کہ’’علم النحو‘‘کی جس کتاب میں مرز ا کا قاعدہ لکھا ہوا ہے اسی کتاب میں ساتھ یہ بھی لکھا ہوا ہے۔
2۔ْقادیانی ان دو آیات قرآنی میں تَوَفِّی کا معنی موت کرکے دکھائیں۔
ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفْسٍ مَّاکَسَبَتْ وَھُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ.(البقرۃ :281)
ترجمہ: ’’پھر ہر ہر شخص کو جو کچھ اس نے کمایا ہے پورا پورا دیا جائے گا،اور ان پر کوئی ظلم نہیں ہو گا۔‘‘ (آسان ترجمۂ قرآن)
وَاِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ۔(آل عمران :185)
ترجمہ: ’’اور تم سب کو (تمہارے اعمال کے ) پورے پورے بدلے قیامت ہی کے دن ملیں گے۔‘‘(آسان ترجمۂ قرآن)
آیت نمبر 3:
’’وَقَوْلِھِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ج وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ ط وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْافِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ ط مَالَھُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ج وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًامoبَل رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا‘‘o ( النساء:158,157)
ترجمہ: اوریہ کہا کہ ’’ہم نے اللہ کے رسول مسیح عیسیٰ ابنِ مریم کو قتل کر دیا تھا‘‘ حالانکہ نہ انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام )کو قتل کیا تھا ، نہ انہیں سولی دے پائے تھے، بلکہ انہیں اشتباہ ہو گیا تھا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے اِس بارے میں اختلاف کیا ہے، وہ اس سلسلے میں شک کا شکار ہیں، انہیں گما ن کے پیچھے چلنے کے سوا اِس بات کا کوئی علم حاصل نہیں ہے، اور یہ بالکل یقینی بات ہے کہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل نہیں کر پائے بلکہ اللہ نے انہیں اپنے پاس اٹھا لیا تھا اور اللہ بڑا صاحبِ اقتدار، بڑا حکمت والا ہے۔‘‘ (آسان ترجمۂ قرآن)
حکیم نورالدین نے اس آیت کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ ’’بلکہ اﷲ تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا