باب پنجم

ترجمہ:    حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ایک طویل روایت میں آپ ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جب (حاجی)رمی جمار کرتا ہے (جمرات کو کنکر مارتاہے) تو کوئی نہیں جانتا کہ اسے کیا اجر ملنے والا ہے یہاں تک کہ اللہ اسے قیامت کے دن پوراپورا اجر دیں گے ۔
فائدہ:      حافظ منذری رحمہ اللہ نے دو حدیثوں کے بعد اس باب کی تکمیل کی ہے۔ نئے باب کے شروع میں گزشتہ باب کی احادیث پر تبصرہ کرتے ہوئے مذکورہ بالا حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں: تَقَدَّمَ فِی الْبَابِ قَبْلَہٗ فِیْ حَدِیْثِ اِبْنِ عُمَرَ الْصَحِیْحِ، وَ اِذَا رَمَی الْجَمَارَلَا یَدْرِی اَحَدٌ مَالَہٗ حَتّٰی یَتَوَفَّاہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَفْظُ اِبْنِ حِبَّانِ۔

حاصل یہ ہے کہ اس باب سے پہلے حضرت ابن عمررضی اللہ عنہما کی صحیح حدیث گزری ہے کہ جب (حاجی)رمی جمار کرتا ہے (جمرات کو کنکر مارتاہے) تو کوئی نہیں جانتا کہ اسے کیا اجر ملنے والا ہے یہاں تک کہ اللہ عزوجل اسے قیامت کے دن پوراپورا اجر دیں گے ۔یہ الفاظ ابن حبان کے ہیں۔
2) امام سراج الدین ابی جعفر عمر بن علی بن احمد المعروف بابن النحوی والمشہور بابن الملقَّن (المتوفّٰی 804؁ھ) اپنی تصنیف ’’عجالۃالمحتاج الی توجیہ المنھاج‘‘ میں ارشاد نبوی ﷺ تحریر فرماتے ہیں۔
وَ اِذَا رَمَی الْجَمَارَلَا یَدْرِی اَحَدٌ مَالَہٗ حَتّٰی یَتَوَفَّاہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔

ترجمہ:      جب (حاجی)رمی جمار کرتا ہے (جمرات کو کنکر مارتاہے) تو کوئی نہیں جانتا کہ اسے کیا اجر ملنے والا ہے یہاں تک کہ اللہ اسے قیامت کے دن پوراپورا اجر دیں گے۔
3)۔ امام جلال الدین سیوطی(849؁ھ۔۔۔911؁ھ) جو مرزا قادیانی کے ہاں نویں صدی ہجری کے مجدد ہیں،اپنی تالیف جمع الجوامع المعروف بالجامع الکبیر میں نبی کریم