باب پنجم

جواب نمبر 3 :     قرآن مجید میں بھی ایسی آیات موجود ہیں جن میں قادیانی شرط پائی جاتی ہے یعنی تَوَفِّی باب تَفَعُّل ،اللہ فاعل اورانسان یعنی ذی روح مفعول ہے مگر اس کا معنی موت نہیں ہے۔لیجئے ہم قرآن کریم سے مرزا قادیانی کے اصول کو توڑ کر اس کے کذاب ہونے پر مہر ثبت کررہے ہیں۔ ملاحظہ فرما ئیں:
آیت نمبر 1:        ’’وَھُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰکُمْ بِالَّیْلِ‘‘۔(اَلانعام :60)
ترجمہ :    ’’اوروہی ہے جو رَات کے وقت (نیندکی حالت )میں تمہاری روح قبض کر لیتا ہے‘‘۔{آسان ترجمۂ قرآن}
آیت نمبر 2:      ’’اَللّٰہُ یَتَوَفَّی الْانْفُسَ حِیْنَ مَوْتِھَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِھَا‘‘۔
(الزمر :42)
ترجمہ:      ’’اﷲتمام روحوں کو ان کی موت کے وقت قبض کر لیتا ہے، اور جن کو ابھی موت نہیں آئی ہوتی، ان کو بھی ان کی نیند کی حالت میں قبض کر لیتا ہے‘‘۔{آسان ترجمۂ قرآن}
حوالہ نمبر 2:     ایک جگہ اورمرزا قادیانی لکھتا ہے کہ ’’میں دعوے سے کہتا ہوں کہ کسی ایک صحیح حدیث میں بھی کوئی ایسا تَوَفِّی کا لفظ نہیں ملے گا جس کے کوئی اور معنے ہوں۔ میں نے معلوم کیا ہے کہ اسلام میں بطور اصطلاح کے قبض روح کیلئے یہ لفظ مقرر کیا گیا ہے تاروح کی بقا پر دلالت کرے‘‘۔

جواب نمبر 1:     ہم مرزا قادیانی کی یہ خواہش بھی پوری کرتے ہیں ۔ ساتھ ہی یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہتَوَفِّی بطور اصطلاح ’’ قبضِ روح‘‘ کیلئے مقرر کرنے کا دعویٰ بھی جھوٹ پر مبنی ہے۔ چند روایات ملاحظہ فرمائیں:
1)۔ امام حافظ ذکی الدین عبدالعظیم بن القوی المنذری رحمہ اللہ(المتوفّٰی656؁ھ) اپنی تصنیف ’’الترغیب و الترہیب‘‘میں ارشاد خاتم الانبیاءﷺرقم فرماتے ہیں۔ وَ عَنْ اِبْنِ عُمَرَ ۔۔۔ وَ اِذَا رَمَی الْجَمَارَلَا یَدْرِی اَحَدٌ مَالَہٗ حَتّٰی یَتَوَفَّاہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ رَوَاہُ الْبَزَّارُ وَالْطَبْرَانِیُّ وَابْنُ حِبَّانِ فِیْ صَحِیْحِہٖ ، وَالْلَفْظُ لَہٗ۔