باب پنجم
2۔ ’’تمام مسلمانوں کا اِس بات پر اتفاق ہے کہ احادیث کی رو سے ضرور ایک شخص آنے والا ہے جس کا نام عیسیٰ علیہ السلام ابنِ مریم ہو گا اور یہ پیشگوئی بخاری اور مسلم اور ترمذی وغیرہ کتب حدیث میں اس کثرت سے پائی جاتی ہے جو ایک منصف مزاج کی تسلی کے لئے کافی ہے اور بالضرورت اس قدر مشترک پر ایمان لانا پڑتا ہے کہ ایک مسیح موعود آنے والا ہے‘‘۔
3۔ ’’مسیح موعود کے بارہ میں جو احادیث میں پیش گوئی ہے وہ ایسی نہیں ہے کہ جس کو صرف آئمہ حدیث نے چند روایتوں کی بنا پر لکھا ہو وبس ،بلکہ یہ ثابت ہوگیاہے کہ یہ پیشگوئی عقیدہ کے طور پر ابتداء سے مسلمانوں کے رگ و ریشہ میں داخل چلی آتی ہے۔ گویا جس قدر اُس وقت روئے زمین پر مسلمان تھے اسی قدر اس پیشگوئی کی صحت پر شہادتیں موجود تھیں کیونکہ عقیدہ کے طور پر وہ اُس کو ابتداء سے یاد کرتے چلے آتے تھے‘‘۔
4۔ ’’ اس پر اتفاق ہو گیا ہے کہ مسیح کے نزول کے وقت اسلام دنیا پر کثرت سے پھیل جائے گا اور ملل باطلہ ہلاک ہو جائیں گی اور راستبازی ترقی کرے گی‘‘۔
5۔ ’’ایک دفعہ ہم دلّی میں گئے تھے۔ ہم نے وہاں کے لوگوں سے کہا کہ تم نے تیرہ سو برس سے یہ نسخہ استعمال کیا ہے کہ آنحضرتﷺ کو مدفون اور حضرت عیسیٰ ؑ کو زندہ آسمان پر بٹھایا۔ یہ نسخہ تمہارے لئے مفید ہوا یا مضر؟
دلائل اثبات رفع ونزول ازروئے قرآن مجید
آیت نمبر1:
’’وَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللّٰہُ ط وَ اللّٰہُ خَیْرُ الْمٰکِرِیْنَ‘‘۔ (آل عمران :54)
ترجمہ: ’’اور اِن کافروں نے( عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف)خفیہ تدبیر کی، اور اللہ نے