باب پنجم

بھی خفیہ تدبیر کی۔اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے‘‘۔(آسان ترجمۂ قرآن)
طرزِ استدلال:
                 یہود نا مسعود کی تدبیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کی تھی او رانہوں نے آپ کو قتل کرنے کی پوری کوشش کی جس کا اﷲ تعالیٰ نے وَمَکَرُوْا میں ذکر فرمایا ان کے مقابلہ میں اﷲ تعالیٰ نے اپنی تدبیر کا ذکر فرمایا اور اپنی تدبیر کو بہتر بتایا ان کی تدبیر ناکام ہوگئی اور اﷲ تعالیٰ کی تدبیر غالب ہوگئی، چنانچہ ’’یہوداہ اسکریوتی‘‘ جو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں میں سے تھا، تیس روپے لیکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑوانے کیلئے اس مکان میں داخل ہوا اﷲ تعالیٰ نے اسے حضرت عیسیٰ کی شکل میں تبدیل کردیا اور عیسیٰ کو اپنی کمال قدرت سے زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے حواریوں سے کہا کہ تم میں سے کون ہے جو میری جگہ گرفتاری پیش کرے ایسا کرنے والے کے لئے میں جنت کا ضامن ہوں ۔ ’’یہوداہ اسکر یوتی‘‘ نے اپنے آپ کو عیسیٰ علیہ السلام کی جگہ پیش کیا اور وہ سولی پر لٹکادیا گیا جبکہ عیسیٰ علیہ السلام ملائکہ کے ذریعہ آسمانوں پر تشریف لے گئے۔ دونوں اقوال میں سے جو قول بھی معتبر مانا جائے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع بہر صورت ثابت ہے۔
                مذکورہ بالا آیت کی تمام مفسرین نے یہی تفسیر بیان کی ہے اور اﷲ تعالیٰ کی اس تدبیر کا ذکر کیا ہے۔ کوئی ایک مفسر ؍مجدد پیش نہیں کیا جاسکتا جس نے یہاں پر عیسائیوں اور مرزائیوں کی تدبیربیان کی ہو۔
نکتہ:
               ’’مکر‘‘ کہتے ہیں لطیف خفیہ تدبیر کو ۔ اگر اچھے مقصد کیلئے ہو تو اچھا ہے اور برائی کیلئے ہو توبرا ہے ۔ اسی لئے ’’وَلَا یَحِیْقُ الْمَکْرُ السَّیِّیُٔ اِلَّابِأَھْلِہٖ.‘‘ (فاطر:43) میں مکر کے ساتھ سَیِّیُٔ کی قید لگائی ہے اور یہاں خدا تعالیٰ کو ’’خَیْرُ الْمٰکِرِیْنَ‘‘ کہا۔ مطلب یہ ہے کہ یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف طرح طرح کی سازشیں اور