باب پنجم

رہے ہیں کہ وہ دونوں آسمان کی طرف اٹھائے گئے اور پھر کسی زمانہ میں زمین پراتریں گے اور تم ان کو آسمان سے آتے دیکھو گے انہی کتابوں سے کسی قدر ملتے جلتے الفاظ احادیث نبویہ میں بھی پائے جاتے ہیں ‘‘۔

حوالہ نمبر 3:
’’وَالنُّزُوْلُ اَیْضاً حَقٌ نَظَرًا عَلٰی تَوَاتُرِ الْآثَارِ۔وَقَدْ ثَبَتَ مِنْ طُرُقٍ فِی الْاَخْبَارِ۔
’’و نزول از روئے تواتر آثارہم راست است۔ چراکہ از طرق متعددہ ثابت گشتہ‘‘۔

یعنی ’’اور عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا بھی حق ہے کیوںکہ احادیث اس بارہ میں متواتر ہیں اور یہ امر مختلف طرق سے ثابت ہے‘‘۔
حوالہ نمبر 4:
’’صحیح مسلم کی حدیث میں جویہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔‘‘

نوٹ:     یہ حدیث صحیح مسلم میں نہیں بلکہ کنزالعمال میں مذکور ہے۔ قادیانیوں کیلئے چونکہ مرزا قادیانی کی تحریرات حجت ہیں اس لئے الزامی طور پر مذکورہ حوالہ لکھا جاتا ہے ۔اور یہ حوالہ مرزا قادیانی کے جھوٹوں میں بھی شمار ہو سکتا ہے ۔ہمارا مطالبہ ہے کہ آسمان کا لفظ صحیح مسلم سے دکھاؤ۔

اثباتِ رفع و نزول مسیح از روئے اجماع امت باقوالِ مرزا قادیانی

اب ہم مرزا قادیانی کی اپنی تحریروں سے ثابت کرتے ہیں کہ رفع و نزول کا عقیدہ مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے۔
1۔ ’’ہاںتیرہویں صدی کے اختتام پر مسیح موعود کا آنا ایک اجماعی عقیدہ معلوم ہوتا ہے‘‘۔