باب چہارم
’’حدائق النجوم‘‘ ص 702تا 707 اور ’’یوز آف دی گلوبس‘‘ ص 272تا 276 اور مسٹر نارمن لوکیئر کی کتاب ’’اسٹرونومی‘‘ ص102 جدول خسوف وکسوف کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ 13 صدیوں میں 18ھ سے1313ہجری تک 60 مرتبہ رمضان المبارک میں اجتماع خسوف و کسوف ہوا۔
اگر 13تاریخ اور28 تاریخ کو رمضان میں خسوف و کسوف ہونا نشان ہے تو روایت کے بموجب ہر ایک گرہن کو ہی نشان بننا چاہیے تھا اور ہر ایک کو ہی بے نظیر ہونا چاہیے تھا۔ مگر مذکورہ فہرست سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک سو برس کے عرصہ میں چاند گرہن رمضان کی 13تاریخ کو پانچ مرتبہ ہوا یعنی1263ھ، 1267ھ، 1291ھ، 1311ھ، 1312ھ اور سورج گرہن 28 رمضان کو چھیالیس برس میں چھ مرتبہ ہوا۔ اور دونوں کا اجتماع ان تاریخوں میں تین مرتبہ ہوا کیا ایسے گرہنوں کو نشان کہہ سکتے ہیں؟ حالانکہ اس دوران بیسیوںافرادنبوت و مہدویت کے دعویٰ کے ساتھ مخلوق ِخدا کو گمراہ کرتے رہے۔مثلاً
صالح بن طریف برغواطی:
1۔ صالح بن طریف نے برغواطہ(شمالی افریقہ) کے اکثر ممالک کا حکمران بن کر 127ھ میں نبوت اور مہدی اکبر ہونے کا دعویٰ کیا اور 174ھ تک تخت نشین بھی رہا۔
2۔ اُس کے زمانہ میں162 ھ میں رمضان المبارک میں خسوف و کسوف ہوا۔
3۔ اُس کے دعویٰ نبوت کی مدت47 برس ہے۔
4۔ اُس کے خاندان میں قریباً تین سوبرس بادشاہت رہی اورساتھ جھوٹی نبوت بھی چلتی رہی۔
ابو منصور عیسیٰ:
1۔ یہ بھی صالح بن طریف کی نسل میں سے تھا اور برغواطہ (شمالی افریقہ)کے اکثر ممالک کا حکمران رہا اور341 ھ میں دعویٰ نبوت کیا۔
2۔ رمضان المبارک346 ھ میں اس کے وقت میں خسوف و کسوف کا اجتماع ہوا۔