باب چہارم
اٹھائیس تاریخ مراد لی جاسکتی ہے۔ اٹھائیس تاریخ، ستائیس، اٹھائیس، انتیس تاریخوں میں درمیانی کہلا سکتی ہے، ان تاریخوں کی نصف نہیں ہوسکتی، اور نہ ہی کوئی احمق اٹھائیس تاریخ کو نصف رمضان کہہ سکتا ہے ۔
جواب نمبر2:
مرزا قادیانی کی یہ تاویل اس لئے بھی باطل ہے کہ اس قول میں دو مرتبہ یہ جملہ آیا ہے کہ ’’لَمْ تَکُوْنَا مُنْذُ خَلَقَ اﷲُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ‘‘ یعنی ہمارے مہدی کے یہ دونشان ایسے ہوں گے کہ جب سے آسمان وزمین بنے ہیں تب سے ایسے نشان ظاہر نہیں ہوئے ہوں گے۔
یہ قول اسی صور ت میں صحیح ہوسکتا ہے کہ جب اسے ظاہری الفاظ کے مطابق رکھا جائے، ’’اَوَّلُ لَیْلَۃٍ‘‘ سے یکم رمضان اور ’’نِصْفٌ مِّنْہُ‘‘ سے پندرہ رمضان مراد لی جائے کیونکہ جب سے آسمان وزمین بنے ہیں ان تاریخوں میں چاند اور سورج کو کبھی گرہن نہیں لگا۔ تیرہ رمضان کو چاند گرہن اور اٹھائیس رمضان کو سورج گرہن مرزا قادیانی سے قبل ہزاروں مرتبہ لگ چکا ہے مرزا سے قبل 45سال کے عرصہ میں تین مرتبہ رمضان کی انہی تاریخوں میں گرہن لگ چکا ہے۔
جواب نمبر 3:
1829ء میں ایک مشہور انگریز مسٹر کیتھ نے انگریزی زبان میں ایک کتاب لکھی جس کا نام ’’یوزآف دی گلوبس‘‘ تھا۔ یہ کتاب لند ن میں طبع ہوئی۔ مسٹر کیتھ نے اس کتاب میں1801ء سے1901ء تک کی پورے سو برس کے آئندہ گہنوں کی فہرست درج کی ہے۔ اُ س کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک سو سال کے اند ر 5 مرتبہ خسوف و کسوف کا اجتماع رمضان المبارک میں ہوا ہے۔
دوسری کتاب 1256ھ میں ’’حدائق النجوم‘‘ فارسی زبان میں مطبع محمد ی لکھنو سے چھپی۔ اس کتا ب کی فہرست میں 63 برس کے اند ر تین گرہنوں کا اجتماع رمضان المبارک میں لکھا ہے اور یہ تین اجتماع ایسے ہیں کہ دونوں کتابوں کے مصنف اس پر متفق ہیں۔