باب ہشتم

 موجود ہیں اس وقت تک جہاد جاری رہے گا۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد باطل اور طاغوتی طاقتیں ختم ہوجائیں گی۔پھر جہاد بھی ختم ہوجائے گا کیونکہ جہاد ہوتا ہے اہل باطل سے جب کہ اس وقت کفار کا خاتمہ ہو جائے گا۔ 

انگریز کے اشارے پر مرزا قادیانی نے مسلمانوں سے جذبہ جہاد کو ختم کرنے کے لئے حرمت جہاد کا اعلان کیا، یہ کفر ہے۔ 

چند عبارتیں ملاحظہ فرمائیں: 

-1 آج سے دین کے لیے لڑنا حرام کیا گیا اب اس کے بعد جو دین کے لئے تلوار اٹھاتا ہے اور غازی نام رکھا کر کافروں کو قتل کرتا ہے وہ خدااور اُس کے رسول کا نافرمان ہے۔ 

-2 ’’میںیقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے کیونکہ مجھے مسیح اورمہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔

-3 ’’سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو‘جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔

اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال

دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال

اب آگیا مسیح جو دیں کا امام ہے

دیں کے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے

اب آسماں سے نورِ خدا کا نزول ہے

اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے