باب ہشتم
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد
مرزا کے کفر کی آٹھویں وجہ: تمام مسلمانوں کی تکفیر
کسی مسلمان کو کافر کہنے کی اسلام میں سخت وعید موجود ہے۔مرزا قادیانی نے تیرہ صدیوں کی امت مسلمہ کے تمام افراد کو کافر اور جہنمی کہا ہے۔پہلے آپ خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺکے دو وعیدی ارشادات ملاحظہ فرمائیں۔اس کے بعدقادیانیوں کی عبارات ملاحظہ فرمائیں:
عن ابن عمر رضی اللہ عنہُما، قال: قال رسول اللہ ﷺ:”إذَا قالَ الرَّجُلُ لأخِیہِ: یا کافِرٌ! فَقَدْ بائَ بِہِی أحَدُہُما، فإن کانَ کما قال، وَإِلاَّ رَجَعَتْ عَلَیْہِ”۔
(صحیح البخاری کتاب الادب باب من اکفر اخاہ بغیر تاویل فھو کما قال،رقم: 6103،صحیح مسلم کتاب الایمان،باب بیان حال من قال لاخیہ مسلم:یاکافر! رقم: 215)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب کوئی آدمی اپنے بھائی سے کہے : اے کافر! تو ان دونوں میں سے ایک پر یہ (کفر کا حکم)لوٹ آئے گا۔اگر وہ واقعی ایسا تھا جیسا اس نے کہا، تو (کفر کا حکم) اس پر ثابت ہوگا،اور اگر وہ ایسا نہیں تھا،تویہ(کفرکاحکم)کہنے والے پرواپس لوٹ آئے گا‘‘۔
عن أبی ذرّ رضی اللہ عنہُ، أنہُ سمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقولُ: ”مَنْ دَعا رَجُلاً بالکُفْرِ”۔ أوْ قَالَ: ”عَدُوُّ اللَّہ” – ”وَلَیْسَ کَذَلِکَ، إلاَّ حَارَ عَلَیہِ”. ہذا لفظ روایۃ مسلم، ولفظ البخاری بمعناہ. ومعنی ”حَارَ”: رَجَعَ.
(صحیح مسلم کتاب الایمان،باب بیان حال من قال لاخیہ مسلم:یاکافر! رقم: 217،ومثلہٗ صحیح البخاری کتاب الادب باب ماینہی من السباب واللعن، رقم: 6045)
ترجمہ: حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا،’’جس نے کسی آدمی کو کافر کہا‘‘،یا فرمایا:’’اللہ کا دشمن‘‘،حالانکہ وہ