باب ہشتم

 ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں موسیٰ ہوں، میںدائود ہوں‘ میں عیسیٰ ابن مریم ہوں‘ میں محمدﷺ ہوں‘‘۔ 

-4 ’’اس (نبی کریمؐ) کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا۔‘‘ 

-5 ’’خدا تعالیٰ میرے لئے اس کثرت سے نشان دکھلارہا ہے کہ اگر نوح کے زمانہ میںوہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔‘‘ جلد22ص575) 

-6 ’’پس اس امت کا یوسف یعنی یہ عاجز(مرزا قادیانی )اسرائیلی یوسف سے بڑھ کر ہے کیونکہ یہ عاجز قید کی دعا کرکے بھی قید سے بچایا گیا مگر یوسف بن یعقوب قید میں ڈالا گیا‘‘۔

-7

آنچہ دادست ہر نبی را جام  

داد آں جام را مرا بہ تمام 

انبیاء گرچہ بودہ اند بسے  

من بعرفان نہ کمترم ز کسے 

کم نیم زاں ہمہ بروئے یقیں  

ہر کہ گوید دروغ ہست لعین 

زندہ شد ہر نبی بآمدنم  

ہر رسولے نہاں بہ پیراہنم 

ترجمہ: 

’ خداوند نے جو پیالے ہر نبی کو دیئے ہیں ان تمام پیالوں کا مجموعہ مجھے دیا ہے ،اگرچہ دنیا میں بہت سے نبی ہوئے ہیں میں عرفان میںان نبیوں میں سے کسی سے کم نہیں ہوں،مجھے اپنی وحی پر یقین ہے اور اس یقین میں‘میںکسی نبی سے کم نہیں ہوں جو جھوٹ کہتا ہے وہ لعین ہے، میری آمد کی وجہ سے ہر نبی زندہ ہوگیا ہر رسول میری قمیض میں چھپا ہوا ہے‘‘۔