باب ہشتم
ہے کہ اس کیلئے دوزخ کی آگ ہے جس میں ہمیشہ رہے گا؟ یہ بڑی بھاری رسوائی ہے۔(آسان ترجمہ قرآن)
اسی طرح امام ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب زاد المعادمیں حضرت عبداللہ ابن عباس کی روایت نقل کی ہے کہ ـ:
عَنْ ابْن عَبَّاسٍ رضی اللہ عنہ اَیُّمَا مُسْلِمٍ سَبَّ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اَوْ سَبَّ اَحَدًا مِنَ الْاَنْبِیَائِ فَقَدْ کَذَبَ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺوَہِیَ رِدَّۃُ
یُسْتَتَابُ فَاِنَّ رَجَعَ وَاِلَّاقُتِلَ وَاَیُّمَا مُعَاہِدٍ عَانَدَ فَسَبَّ اللّٰہُ
اَوْ سَبَّ اَحَدًا مِنَ الْاَنْبِیَائِ اَوْ جَہَرَ بِہٖ فَقَدْ نَقَضَ الْعَہْدَ فَاقْتُلُوْہُ
(زاد المعادفی ھدی خیرالعبادمحمد ﷺ از ابن قیم جلد سوم،ص928 فصل فی قضائہ ﷺ فیمن سبہ من مسلم او ذمی او معاھد طبع کتب شاہ اسلام پشاور)
ترجمہ: ’’جو کوئی مسلمان اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول ﷺ کو برا بھلا کہے یا کسی نبی کو گالی دے ، تووہ درحقیقت رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرتا ہے اور یہ عمل ارتداد (اسلا م سے پھر جانے) کے مترادف ہے۔ ایسے شخص کو توبہ کی دعوت دی جائے گی،اگر وہ توبہ کرلے تو ٹھیک، ورنہ اسے قتل کردیا جائے گا،اسی طرح اگر کوئی معاہد(ذمی) ایسا کرے اور اللہ یا کسی نبی کو گالی دے یا اس کا اعلان کرے،تو اس نے معاہدہ توڑ دیا ہے،اور اسے قتل کردیا جائے گا۔
-1 ’’خداتعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے چھپانے کے لئے ایک ایسی ذلیل جگہ تجویز کی جو نہایت متعفَّن اور تنگ اور تاریک اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ تھی‘‘ ۔
-2 ’’پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے۔ ’’ مُحَمَّدٌرَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَیْنَھُمْ ‘‘ اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی‘‘۔
-3 ’’میں آدم ہوں‘میںنوح ہوں‘میں ابراہیم ہوں،میں اسحاق ہوں،میں یعقوب
-3 ’’میں آدم ہوں‘میںنوح ہوں‘میں ابراہیم ہوں،میں اسحاق ہوں،میں یعقوب