باب ہشتم
وَّقَوْلِھِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰہِج وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ ط وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ
لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ ط مَا لَھُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ج وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًام لا۔
بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا ۔
(النساء:158,157)
ترجمہ: اوریہ کہا کہ:’’ہم نے اللہ کے رسول مسیح عیسیٰ ابن مریم کو قتل کیاتھا‘‘،حالانکہ نہ انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرد یا تھا،نہ انہیں سولی دے پائے تھے،بلکہ انہیں اشتباہ ہوگیاتھا، اور حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے، وہ اس سلسلے میں شک کا شکار ہیں، انہیں گمان کے پیچھے چلنے کے سوا اس بات کا کوئی علم حاصل نہیں ہے،اور یہ بالکل یقینی بات ہے کہ یہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کرپائے،بلکہ اللہ نے انہیں اپنے پاس اٹھا لیا تھا اور اللہ بڑا صاحب اقتدار،بڑا حکمت والا ہے‘‘۔ (آسان ترجمہ قرآن)
اور نزول کے متعلق سورہ زخرف میں ہے کہ:
وَاِنَّہٗ لَعِلْم’‘ لِّلسَّاعَۃِ فَلاَ تَمْتَرُنَّ بِھَا وَاتَّبِعُوْنِط ھٰذَا صِرَاط’‘ مُّسْتَقِیْم’‘ ۔
(الزخرف:61)
ترجمہ: اور یقین رکھو کہ وہ (یعنی عیسیٰ علیہ السلام)قیامت کی ایک نشانی ہیں،اسلئے تم اس میں شک نہ کرو، اورمیری بات مانو۔یہی سیدھا راستہ ہے۔(آسان ترجمہ قرآن)
اور اسی طرح سورہ نساء میں ہے کہ :
وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ ج وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْہِمْ شَھِیْدًا۔ (النساء:159)
ترجمہ: اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو اپنی موت سے پہلے ضروربہ ضرور عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہ لائے،اور قیامت کے دن وہ ان لوگوں کے خلاف گواہ بنیں گے (آسان ترجمہ قرآن)۔مفسرین نے ان آیات سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول کو ثابت کیا ہے۔علامہ آلوسی رحمہ اللہ آیت خاتم النبیین کی تفسیر میں اس عقیدہ کوامت کا اجماعی عقیدہ قرار دیا ہے۔