باب ہشتم

رئیس المتکلمین علامہ سید محمود آلوسیؒ (المتوفٰی1270؁ھ)ختم نبوت کے مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں یوں تحریر فرماتے ہیں کہ: 

’’وَلَا یَقْدَحُ فِیْ ذٰلِکَ مَا أَجْمَعَتِ الْاُمَّۃُ عَلَیْہِ وَ اشْتَھَرَتْ فِیْہِ الْأَخْبَارُ وَلَعَلَّھَا بَلَغَتْ مَبْلَغَ التَّوَاتُرِ الْمَعْنَوِیِّ وَنَطَقَ بِہِ 

الْکِتَابُ عَلٰی قَوْلٍ وَوَجَبَ الْاِیْمَانُ بِہٖ وَأُکْفِرَ مُنْکِرُہٗ کَالْفَلَاسِفَۃِ مِن نُّزُوْلِ

 عِیْسٰی عَلَیْہِ السَّلاَمُ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ‘‘۔   

(روح المعانی۔جلد22،ص290 تحت آیت ماکان محمد ابا احدطبع مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ) 

ترجمہ: ’’اور اس بات سے ختم نبوت کے عقیدہ پر کوئی زد نہیں پڑتی جس پر امت کا اجماع ہے اور اِس پر مشہور روایات موجود ہیں اور شاید کہ یہ تواترِ معنوی کو پہنچی ہوئی ہوں اور ایک تفسیر کی رُو سے یہ قرآن کریم سے بھی ثابت ہے اور اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس کے منکر جیسے فلاسفہ وغیرھم کافر ہیں اور وہ بات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آخری زمانہ میں نازل ہونا ہے‘‘۔ 

اب آپ مرزا قادیانی کے اس اجماعی عقیدہ کے خلاف چند حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں: 

-1 ’’یہ کہنا کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے شرک عظیم ہے جو نیکیوں کو کھا جانے والی چیز ہے اور عقل کے خلاف ہے‘‘۔ 

-2 ’’بعد اس کے مسیح اُس زمین سے پوشیدہ طور پر بھاگ کر کشمیر کی طرف آگیااور وہیں فوت ہوا اور تم سن چکے ہو کہ سری نگر محلہ خان یار میں اس کی قبر ہے‘‘۔   

-3 ’’جب تک مجھے خدا نے اس طرف توجہ نہ دی اور بار بار نہ سمجھایا کہ تو مسیح موعود ہے اور عیسیٰ فوت ہوگیا ہے تب تک میں اسی عقیدہ پر قائم تھا جو تم لوگوں کا عقیدہ ہے۔ اسی وجہ سے کمال سادگی سے میں نے حضرت مسیح کے دوبارہ آنے کی نسبت براہین میں لکھا ہے جب خدا