باب ہشتم
مرزا قادیانی کے کفر کی پہلی وجہ:مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت
قرآن مجید نے واضح طور پر آقائے دوعالم حضرت محمد ﷺ کو ’’خاتم النبیین‘‘ کہاہے۔احادیث مبارکہ کا ایک عظیم ذخیرہ اس پر شاہد ہے۔اب اگر کوئی دعویٰ نبوت کرتا ہے تو وہ قرآن و حدیث کے واضح احکام کا منکر اور کافر ہے۔اسی عقیدہ کو عظیم فقیہ، محدث اور مجدد دسویں صدی ہجری حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ (1014ھ)نے شرح فقہ اکبر اس طرح رقم فرمایا ہے کہ:
وَدَعْوَی النَّبُوَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّنَاﷺکُفْرٌ بِالْاِجْمَاعِ ۔
(شرح فقہ اکبر ص164طبع مکتبہ حقانیہ ملتان)
یعنی ‘’’اور نبوت کا دعویٰ ہمارے نبی ﷺ کے بعد باجماع کفر ہے‘‘۔
سراج الامت حضرت امام اعظم نعمان بن ثابت ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے زمانہ میں کسی شخص نے نبوت کا دعویٰ کیااور اپنی نبوت پر دلائل پیش کرنے کیلئے مہلت مانگی(تاکہ صدق و کذب عیاں ہو)اس پر حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ:
مَنْ طَلَبَ مِنْہُ عَلَامَۃً فَقَدْ کَفَرَ لِقَوْلِ النَّبِیِّ ﷺ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔
(مناقب الامام الاعظم للامام البرازی الکردری ج1ص161طبع دائرۃ المعارف، حیدرآباد دکن)
ترجمہ: جو شخص اس سے علامت طلب کرے گاتو وہ کافر ہو جائے گا،کیونکہ آنحضرت ﷺ کا فرمان ہے کہ میرے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی۔
الغرض ،ختم نبوت کا مسئلہ اس طرح واضح اور بے غبار ہے کہ اس میں کسی قدر تامل کرنا بھی خالص کفر ہے۔
مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت پر کفریات تو بہت زیادہ ہیں بطور نمونہ چند ایک ملاحظہ فرمائیں:
–1 ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ‘‘…اس وحی الہٰی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔