باب ہفتم

چنانچہ اُن کو ناشتہ کروا کر اُن کے روزے تڑوا دیے

روزے نہیں رکھے 

  بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی ) کو دورے پڑنے شروع ہوئے تو آپ نے اس سال سارے رمضان کے روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کردیا ۔دوسرا رمضان آیا تو آپ نے روزے رکھنے شروع کئے مگر آٹھ، نو روزے رکھے تھے کہ پھر دورہ ہوا اس لیے باقی چھوڑ دیے اور فدیہ ادا کر دیا۔ اس کے بعد جو رمضان آیا تو اس میں آپ نے دس، گیارہ روزے رکھے تھے کہ پھر دورہ کی وجہ سے روزے ترک کرنے پڑے اور آپ نے فدیہ ادا کر دیا۔ اس کے بعد جو رمضان آیا تو آپ کا تیرہواں روزہ تھا کہ مغرب کے قریب آپ کو دورا پڑا اور آپ نے روزہ توڑ دیا اور باقی روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کر دیا ۔ اس کے بعد جتنے رمضان آئے آپ نے سب روزے رکھے مگر پھر وفات سے دو تین سال قبل کمزوری کی وجہ سے روزے نہیں رکھ سکے اور فدیہ ادا فرماتے رہے۔ خاکسار نے دریافت کیا کہ جب آپ نے ابتدا دوروں کے زمانہ میں روزے چھوڑے کیا پھر بعد میں اُن کو قضا کیا ؟ والدہ صاحب نے فرمایا کہ نہیں صرف فدیہ ادا کر دیا تھا۔   

اسی مفہوم کی ایک روایت سیرت المہدی ج1حصہسوم ص 131 روایت نمبر 697 طبع جدید2008؁ء ص637 پر بھی درج ہے۔ یہ دورے بڑے عقلمند اور سمجھدار تھے جو کہ صرف رمضان المبارک ہی میں پڑتے تھے۔( ناقل)  

میں ایسے پردے کا قائل نہیں 

بیان کیا حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اوّل نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کسی سفر میں تھے اسٹیشن پر پہنچے تو ابھی گاڑی آنے میں دیر تھی۔ آپ بیوی صاحبہ کے ساتھ اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر ٹہلنے لگے یہ دیکھ کر مولوی عبدالکریم صاحب