باب ہفتم

جن کی طبیعت غیور اور جوشیلی تھی میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ بہت لوگ اور پھر غیر لوگ ادھر اُدھر پھرتے ہیں۔ آپ حضرت صاحب سے عرض کریں کہ بیوی صاحبہ کو کہیں الگ بٹھا دیا جاوے۔ مولوی صاحب فرماتے تھے کہ میں نے کہا میں تو نہیں کہتا آپ کہہ کر دیکھ لیں ناچار مولوی عبدالکریم صاحب خود حضرت صاحب کے پاس گئے اور کہا کہ حضور لوگ بہت ہیں بیوی صاحبہ کو الگ ایک جگہ بٹھا دیں۔ حضرت صاحب نے فرمایا جائو جی میں ایسے پردے کا قائل نہیں ہوں۔ مولوی صاحب فرماتے تھے کہ اس کے بعد مولوی عبدالکریم صاحب سر نیچے ڈالے میری طرف آئے میں نے کہا مولوی صاحب !جواب لے آئے؟

حکیم مولوی نورالدین اور مولوی عبدالکریم دونوں مرزا قادیانی کے دستِ راست تھے۔ان کا مرزا کی بیوی کو ’’ام المؤمنین‘‘کی بجائے ’’بیوی صاحبہ‘‘ کہنا۔۔۔ ۔؟ ؟؟قادیانی امت پر اس روایت کی تشریح یقینا بارِ گراں ہو گی؟؟؟ 

تھیٹر 

حضرت مسیح موعود کے امرتسر جانے کی خبر سے بعض اور احباب بھی مختلف شہروں سے وہاں آگئے ۔ چنانچہ کپورتھلہ سے محمد خان صاحب اور منشی ظفر احمد صاحب بہت دنوں وہاں ٹھہرے رہے ۔ گرمی کا موسم تھا اور منشی صاحب اور میں ہر دو نحیف البدن اور چھوٹے قد کے آدمی ہونے کے سبب ایک ہی چار پائی پر دونوں لیٹ جاتے تھے ایک شب دس بجے کے قریب میں تھیٹر میں چلا گیا جو مکان کے قریب ہی تھا اور تماشا ختم ہونے پر دو بجے رات کو واپس آیا ۔ صبح منشی ظفر احمد صاحب نے میری عدم موجودگی میں حضرت صاحب کے پاس میری شکایت کی کہ مفتی صاحب رات تھیٹر چلے گئے تھے حضرت صاحب نے فرمایا ایک دفعہ ہم بھی گئے تھے تاکہ معلوم ہو کہ وہاں کیا ہوتا ہے۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ فرمایا منشی ظفر احمد صاحب نے خود ہی مجھ سے ذکر کیا کہ میں تو حضرت صاحب کے پا س آپ کی شکایت لے کر گیا تھا اور میراخیال تھا کہ حضرت صاحب آپ کو بلا کر تنبیہ کریں گے مگر حضور