باب ہفتم
سمجھ ایسی ہوئی قدرت خدا کی
میرے بت اب سے پردہ میں رہو تم
کہ کافر ہو گئی خلقت خدا کی
نہیں منظور تھی گر تم کو الفت
تو یہ مجھ کو بھی جتلایا تو ہوتا
مری دلسوزیوں سے بے خبر ہو
مرا کچھ بھید بھی پایا تو ہوتا
دل اپنا اُس کو دوں یا ہوش یا جاں
کوئی اک حکم فرمایا تو ہوتا
کَنْچَنِیْکی رقم
بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ انبالہ کے ایک شخص نے حضرت صاحب سے فتویٰ دریافت کیا میری ایک بہن کَنْچَنِیْ (بازاری عورت) تھی اُس نے اس حالت میں بہت سا روپیہ کمایا پھر وہ مر گئی اور مجھے اُس کا ترکہ ملا مگر بعد میں مجھے اللہ تعالیٰ نے توبہ اور اصلاح کی توفیق دی اب میں اُس مال کو کیا کروں۔ حضرت صاحب نے جواب دیا کہ ہمارے خیال میں اس زمانہ میں ایسا مال اسلام کی خدمت میں خرچ ہو سکتا ہے۔
روزے تڑوا دیے
ڈاکٹر میر محمد اسما عیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ لاہور سے کچھ احباب رمضان میں قادیان آئے حضرت صاحب کو اطلاع ہوئی تو آپ معہ کچھ ناشتہ کے اُن سے ملنے کے لیے مسجد میں تشریف لائے اُن دوستوں نے عرض کی کہ ہم سب روزے سے ہیں۔ آپ نے فرمایا سفر میں روزہ ٹھیک نہیں اللہ تعالیٰ کی رخصت پر عمل کرنا چاہیے۔