باب ہفتم

عشقیہ شاعری 

خاکسار عرض کرتا ہے کہ مرزا سلطان احمد صاحب سے مجھے حضرت مسیح موعود کی ایک شعروں کی کاپی ملی ہے جو بہت پرانی معلوم ہوتی ہے غالباً نوجوانی کا کلام ہے۔ حضرت صاحب کے اپنے خط میں ہے اسے میں پہچانتا ہوںبعض بعض شعر بطور نمونہ درج ذیل ہیں۔  

عشق کا روگ ہے کیا پوچھتے ہو اس کی دوا

ایسے بیمار کا مرنا ہی دوا ہوتا ہے

کچھ مزا پایا میرے دل! ابھی کچھ پائو گے

تم بھی کہتے تھے کہ اُلفت میں مزا ہوتا ہے

____________________________

ہائے کیوں ہجر کے الم میں پڑے

مفت بیٹھے بیٹھائے غم میں پڑے

اس کے جانے سے صبر دل سے گیا

ہوش بھی ورطہ عدم میں پڑے

____________________________

سبب کوئی خداوندا بنا دے

کسی صورت سے وہ صورت دکھا دے

کرم فرما کے آ او میرے جانی

بہت روئے ہیں اب ہم کو ہنسا دے

کبھی نکلے گا آخر تنگ ہو کر

دلا اک بار شور و غل مچا دے

نہ سر کی ہوش ہے تم کو نہ پا کی