باب ہفتم
جائے نفرت
کرمِ خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار
یعنی مرزا قادیانی کہتا ہے کہ میں نہ مٹی کا کیڑا ہوں اور نہ ہی آدم علیہ السلام کی اولاد ہوں بلکہ انسانوں کی عار اور نفرت کی جگہ ہوں۔ قادیانیوں کا کہنا کہ اس شعر میں مرزا قادیانی نے عاجزی اور انکساری کا اظہار کیا ہے، غلط ہے۔ یہ کیسی عاجزی ہے جس میں آدمی خود کو انسان کی اولاد ماننے سے انکار کر دے اور خود کو انسانوں کی نفرت والی جگہ قرار دے ۔
ترکِ اعتکاف
بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ میں نے کبھی حضرت مسیح موعود کو اعتکاف بیٹھتے نہیں دیکھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بھی مجھ سے یہی بیان کیا ہے
ترکِ حج ، اعتکاف اورزکوٰۃ:
ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی ) نے حج نہیں کیا، اعتکاف نہیں کیا زکوٰۃ نہیں دی تسبیح نہیں رکھی۔
قادیانی زکوٰۃ نہ دینے کا یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ مرزا صاحب کے پاس پیسے نہیں ہوتے تھے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مرزا قادیانی ایک امیر آدمی تھا اُس نے اعتراف کیا ہے کہ :
میں یقینا کہہ سکتا ہوں کہ اب تک تین لاکھ کے قریب روپیہ آ چکا ہے اور شاید اس سے زیادہ ہو
اور تین لاکھ سے زیادہ جماعت ہو گئی اورکئی لاکھ روپیہ آیا ۔