باب ہفتم
اُلٹے سیدھے جوتے پہننا
ایک دفعہ کوئی شخص آپ کے لیے گرگابی لے آیا اور آپ نے پہن لی مگر اُس کے اُلٹے سیدھے پائوں کا پتہ نہیں لگتاتھا ۔ کئی دفعہ الٹی پہن لیتے تھے اور پھر تکلیف ہوتی تھی، بعض دفعہ آپ کا اُلٹا پائوں پڑجاتا تو تنگ ہو کر فرماتے کہ اِن کی (ان انگریزوں کی۔ ناقل) کوئی چیز بھی اچھی نہیں ہے۔ (پھر اُن کی عطا کردہ نبوت کیسے اچھی ہوگئی؟؟؟)والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں نے آپ کی سہولت کے واسطے الٹے سیدھے پائوں کی شناخت کے لیے نشان لگا دیے تھے مگر باوجود اس کے آپ الٹے سیدھے پہن لیتے تھے۔
بٹن غلط کاج میں لگانا
بار ہا دیکھا گیا کہ بٹن اپنا کاج چھوڑ کر دوسرے ہی میں لگے ہوئے ہوتے تھے بلکہ صدری کے بٹن کوٹ کے کاجوں میں لگائے ہوئے دیکھے گئے۔
جراب پہننے کی کیفیت
ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود اپنی جسمانی عادات میں ایسے سادہ تھے کہ بعض دفعہ جب حضور جراب پہنتے تھے تو بے توجہی کے عالم میں اُس کی ایڑی پائوں کے تلوے کی بجائے اوپر کی طرف ہو جاتی تھی اور بارہا ایک کاج کا بٹن دوسرے کاج میں لگا ہوتا تھا ۔ آپ بسا اوقات دایاں پائوں بائیں میں ڈال لیتے تھے اور بایاں پائوں دائیں میں اسی طرح کھانا کھانے کا یہ حال تھا کہ خود فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں تو اُس وقت پتا لگتا ہے کہ کیا کھا رہے ہیں جب کھاتے کھاتے کوئی کنکر وغیرہ کا ریزہ دانت کے نیچے آ جاتا۔