باب ہفتم

جرابیں آپ سردیوں میں استعمال فرماتے اور ان پر مسح فرماتے بعض اوقات زیادہ سردی میں دو دو جرابیں اوپر تلے چڑھا لیتے مگر بار ہا جراب اس طرح پہن لیتے کہ وہ پیر پر ٹھیک نہ چڑھتی۔ کبھی تو سرا آگے لٹکتا رہتا اور کبھی جراب کی ایڑی کی جگہ پیر کی پشت پر آجاتی کبھی ایک جراب سیدھی دوسری الٹی،اگر جراب کہیں سے پھٹ جاتی تو بھی مسح جائز رکھتے۔ …….. جوتی اگر تنگ ہوتی تو اس کی ایڑی بٹھا لیتے۔ 

یا پاگل اور مجنون کے سر پر سینگ ہوتے ہیں؟؟؟) 

کھانے کا انداز 

کھانا کھاتے ہوئے روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرتے جاتے تھے۔ کچھ کھاتے تھے کچھ چھوڑ دیتے تھے۔ کھانے کے بعد آپ کے سامنے سے بہت سے ریزے اٹھتے تھے۔ 

ریشمی ازار بند 

  خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب ہم بچے تھے تو حضرت مسیح موعود خواہ کام کر رہے ہوں یا کسی اور حالت میں ہوں ہم آپ کے پاس چلے جاتے تھے کہ ابا پیسہ دو اور آپ اپنے رومال سے پیسہ کھول کر دے دیتے تھے۔ اگر ہم کسی وقت کسی بات پر زیادہ اصرار کرتے تھے تو آپ فرماتے تھے کہ میاں میں اس وقت کام کر رہا ہوں زیادہ تنگ نہ کرو۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ آپ معمولی نقدی وغیرہ اپنے رومال میں جو بڑے سائز کا ململ کا بنا ہوا ہوتا تھا، باندھ لیا کرتے تھے اور رومال کا دوسرا کنارہ واسکٹ کے ساتھ سلوا لیتے یا کاج میں بند ھوالیتے تھے۔ اور چابیاں ازار بند کے ساتھ باندھتے تھے جو بوجھ سے بعض اوقات لٹک آتا تھا اور والدہ صاحبہ بیان فرماتی ہیں کہ حضرت مسیح موعود عموماً ریشمی ازار بند استعمال فرماتے تھے کیونکہ آپ کو پیشاب جلدی جلدی آتا تھا اس لیے ریشمی ازار بند رکھتے تھے تاکہ کھلنے میں آسانی ہو اور گرہ بھی پڑ جاوے تو کھولنے میں دِقّت نہ ہو۔ سوتی ازار بند میں