باب ہفتم
مرزا قادیانی کے کردار، اخلاق اور طرزِ زندگی کی چند جھلکیاں
چینی کی چوری
بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ حضرت سناتے تھے کہ جب میںبچہ ہوتا تھا ایک دفعہ بعض بچوں نے مجھے کہا کہ جائو گھر سے میٹھا لائو میں گھر میں آیا اور بغیر کسی سے پوچھنے کے ایک برتن میں سے سفید بورا ( چینی ) اپنی جیبوں میں بھر کر باہر لے گیا اور راستہ میں ایک مٹھی بھر کر منہ میں ڈال لی بس پھر کیا تھا میرا دم رک گیا اور بڑی تکلیف ہوئی۔ کیونکہ معلوم ہوا کہ جسے میں نے سفیدبورا سمجھ کر جیبوں میں بھرا تھا وہ بورا نہ تھا بلکہ پسا ہوا نمک تھا۔
مرزا کی تلاش، مٹی کے ڈھیلے اور گڑ
براہین احمد یہ کی ابتدا میں مرزا کے ایک مرید معراج الدین عمر مرزائی نے مرزا صاحب کے حالات لکھے ہیں۔ وہ لکھتا ہے ’’ اگر کبھی اتفاق سے اُن سے ( مرزا کے والد سے) کوئی دریافت کرتا کہ مرزا غلام احمد کہاں ہیں؟تو وہ یہ جواب دیتے کہ مسجد جا کر سقاوہ کی ٹونٹی میں تلاش کرو۔ اگر وہاں نہ ملے تو مایوس ہو کر واپس مت آنا ۔مسجد کے اندر چلے جانا اور وہاں کسی گوشہ میں تلاش کرنا اگر وہاں بھی نہ ملے تو پھر بھی نا اُمید ہو کر لوٹ مت آنا، کسی صف میں دیکھنا کہ کوئی اُس کو لپیٹ کر کھڑا کر گیا ہو گا۔کیونکہ وہ تو زندگی میں مرا ہوا ہے۔ اور اگر کوئی اُسے صف میں لپیٹ دے تو وہ آگے سے حرکت بھی نہیں کریگا۔ آپ کو شیرینی سے بہت پیار ہے اور مرض بول بھی عرصہ سے آپ کو لگی ہوئی ہے۔ اُس زمانہ میں آپ مٹی کے ڈھیلے بعض وقت جیب میں ہی رکھتے تھے اور اِسی جیب میں گڑکے ڈھیلے بھی رکھ لیا کرتے تھے۔ اِسی قسم کی اور بھی بہت سی باتیں ہیں جو اس بات پر شاہد ناطق ہیں کہ آپ کو اپنے یار ازل کی محبت میں ایسی محویت تھی کہ جسکے باعث سے اس دنیا سے بالکل بے خبر ہو رہے تھے۔