باب ششم
میں نکلا تھا اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکی یا لڑکا نہیں ہوا اورمَیں اُن کے لئے خاتم الاولادتھا۔‘‘
-6 ’’اور نیز یہ راز بھی کہ اخیر پر بنی اسرائیل کے خاتم الانبیاء کانام جوعیسیٰ ہے اور اسلام کے خاتم الانبیاء کا نام جواحمد اور محمد ہے‘‘۔
نوٹ: جدید کمپیوٹرائز ڈ ایڈیشن میں لفظ ’’اخیر‘‘کی بجائے ’’اخیرج‘‘لکھا ہے۔
یہاں بھی مرزا نے خاتم الاولاد اور خاتم الانبیاء سے مراد آخری کے لئے ہیں اور خاتم الاولاد کا معنی یہ کیاہے کہ میرے بعد میرے ماں باپ کے ہاں اورکوئی لڑکا یا لڑکی پیدا نہیں ہوا جس کا صاف معنی یہ ہے کہ یہ اپنے ماںباپ کا آخری لڑکا ہے اس طرح خَاتَمُ النَّبِیِّیْن میں بھی یہی معنی ہوگا کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا جیسا کہ مرزا صاحب کی پیدائش کے بعدمرزا کے والدین کے ہاں کوئی لڑکا ؍لڑکی نہیں ہوا اس سے ان کے ایک اور شبہ کا ازالہ بھی ہوگیا۔
شبہ:
اگر حضور ﷺ آخری نبی ہیں تو پھر عیسیٰ علیہ السلام کیسے آئیں گے جب وہ آئیں گے تو آخری نبی وہ بن جائیں گے اس سے ثابت ہواکہ یا تو عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں یا حضور ﷺ خاتم النبیین یعنی آخری نبی نہیں ہیں۔
جواب:
مذکورہ بالا حوالہ سے قادیانیوں کا یہ شبہ بھی ’’ھَبَا ئً مَنْثُوْرًا‘‘ ہوگیا کہ حضور ﷺ کے آخری نبی ہونے سے یہ کیسے لازم آگیا کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں اور اگر وہ فوت نہیں ہوئے تو حضورﷺ آخری نبی نہیں ، دیکھئے مرزا صاحب خاتم الاولاد ہیں اور اس کا بڑا بھائی غلام قادر زندہ موجود تھا۔ مرزا غلام احمد اپنے ماں باپ کا آخری لڑکا بھی