باب ششم

ہے اور اس کا بڑا بھائی زندہ موجود بھی ہے نہ تو اس کے آخری ہونے سے یہ لازم آیا کہ اس کا بڑا بھائی ضرور مر ہی چکا ہے اور نہ بڑے بھائی کے زندہ ہونے سے مرزا کے آخری ہونے میںکوئی فرق پڑا۔ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کو بھی سمجھ لیجئے ان کے زندہ رہنے سے حضور ﷺ کی خاتمیت میںکوئی فرق نہیں پڑتا اگر کسی والد کے چا ربیٹے یا کسی استاد کے کئی شاگرد یا پیر کے کئی مرید ہوں ان کاپہلا بیٹا زندہ ہواور آخری مرجائے تو اس کے زندہ رہنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ آخری مرجانے والابیٹا آخری نہ ہو۔ 

نہایت اہم حوالہ:   

آیت خَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ(سورۃ الاحزاب:40) کے ترجمہ میںمرزا قادیانی نے’’ خَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ‘‘ کا معنی ’’نبیوں کا ختم کرنے والا‘‘ کیا ہے نہ کہ مہر یا افضل۔چنانچہ مرزا قادیانی آیت مذکور کا ترجمہ یوں لکھتا ہے ’’یعنی محمدﷺ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں ہے مگر وہ رسول اﷲ ہے اور ختم کرنے والا نبیوں کا‘‘۔  

ہست اوخیر الرسل خیر الانام  

ہر نبوت را برو شد اختتام  

لَانَبِیَّ بَعْدِیْ پر اعتراضات مع جوابات 

اعتراض نمبر1: 

’’لَانَبِیَّ بَعْدِیْ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ میرے بعد کوئی صاحب شریعت نبی نہیں ہوگا جیسا کہ اکثر علماء کی تصریحات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے بعد کوئی صاحب شریعت نبی نہیں ہوسکتا نبی کریم ﷺ کی مراد بھی یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ آپ نے عیسیٰ علیہ السلام کی آمد بتلائی ہے اس سے معلوم ہوا کہ’’لا‘‘ میںعام نفی مراد نہیں ہے۔