باب ششم
حوالہ نمبر2:
’’صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ‘‘ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جس شخص کو یہ مرتبہ ملا انعام کے طور پر ملا یعنی محض فضل سے نہ کسی عمل کاا جر۔‘‘
فائدہ: یہ آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کا اعجاز ہے کہ مرزا اپنے ہی مسلمات کے خلاف لکھ گیا اسی لیے کہاگیا ہے کہ ’’جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔‘‘
لفظ خاتَم کا معنی: قادیانی حضرات لفظ خاتَم کے مختلف معنی کرتے ہیں کبھی تو اس کا معنی مہر لگانے کا اور کبھی ’’خَاتَمُ الْمُحَدِّثِیْنَ وَالشُّعَرَائِ ‘‘کی طرح ’’اَفْضَلُ النَّبِیِّیْن‘‘معنی کرتے ہیں۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ مرز انے یہی خاتم کا لفظ اپنی متعدد کتابوں میں استعمال کیا ہے اور تمام جگہوں میں اس کا معنی آخری ہی لیا ہے۔ مثلاً
-1 ’’خدا کی کتابوں میں مسیح موعود کے کئی نام ہیں من جملہ اُن کے ایک نام اس کا خَاتَمُ الْخُلَفَائِ ہے یعنی ایسا خلیفہ جو سب سے آخر آنے والا ہے‘‘۔
-2 ’’میں اس کے رسول پر دلی صدق سے ایمان لایا ہوں اور جانتا ہوں کہ تمام نبوتیں اس پر ختم ہیں اوراس کی شریعت خَاتَمُ الشَّرَائِع ِہے۔ ‘ ‘
-3 ’’ہم پختہ یقین کے ساتھ اس بات پر ایمان رکھتے ہیںکہ قرآن شریف خاتم کتب سماوی ہے۔‘‘
-4 ’’وہ اس امت کا خاتم الاولیاء ہے جیسا کہ سلسلہ موسویہ کے خلیفوں میں حضرت عیسیٰ ؑخاتم الانبیاء ہے۔‘‘
مرزا صاحب نے مذکورہ بالاتمام جگہوں میںخاتم کا معنی آخری لیا ہے جوواضح طور پر ہماری تائید کرتا ہے۔
-5 مرزا صاحب اپنی پیدائش کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ’’میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی جس کا نام جنت تھا اور پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اس کے